یمن بحران، خطے میں دیرپا امن کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کو ہر وقت تیار ہیں، دفترخارجہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
دفترخارجہ نے کہا ہے پاکستان یمن کے بحران کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے پرامن راستہ اختیار کرنے کی حمایت کرتا ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے شراکت داری، اخوت اور اتحاد کی اقدار کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے میڈیا کے یمن کی صورت حال سے متعلق سوال پر کہا کہ پاکستان یمن کے بحران کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے پرامن راستہ اختیار کرنے کی حمایت کرتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے شراکت داری، اخوت اور اتحاد کی اقدار کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ مملکت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کیے گئے مثبت اقدامات یمن میں امن کے قیام اور مسئلے کے پرامن حل میں معاون ثابت ہوں۔
دفترخارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی جانب سے یمن کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے دانش مندی اور دوراندیشی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برادر ممالک کی کاوشیں خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں، پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے شراکت داری، اخوت اور اتحاد کی اقدار کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خطے میں دیرپا امن استحکام کے لیے کہا کہ پاکستان ہر وقت تیار نے کہا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :