عالمی سطح پر چینی صدر کے نئے سال کے تہنیتی پیغام کی پزیرائی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
عالمی سطح پر چینی صدر کے نئے سال کے تہنیتی پیغام کی پزیرائی WhatsAppFacebookTwitter 0 2 January, 2026 سب نیوز
بیجنگ :بین الاقوامی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر شی جن پھنگ کے نئے سال کے تہنیاتی پیغام میں چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین کی کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا، اور چین کے عوام پر مبنی ترقی کے فلسفے کا اظہار کیا گیا۔ پیغام میں بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینے کا اعادہ کیا گیا، جو چین کی بڑی قومی ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔ روس کے عظیم ایشیا ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹرلیبیڈیو کا کہنا تھا کہ وہ صدر شی جن پھنگ کے نئے سال کے پیغام سے بہت متاثر ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پیغام میں کہا گیاکہ چین ہمہ گیر اصلاحات اور کھلے پن کو مزید گہرا کرے گا اور تمام لوگوں کی مشترکہ خوشحالی کو فروغ دے گا جو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں ایک بہتر کل کی تعمیر میں چینی عوام کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔سال 2026 پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کا سال ہے، چین ایک واضح منصوبہ مندی کے مطابق چینی معجزے میں ایک نیا باب لکھتا رہے گا، اور دنیا کے ساتھ ترقی کے مزید مواقع بانٹتا رہے گا۔
امریکی کوہن فاؤنڈیشن کے چیئرمین رابرٹ کوہن نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ کے نئے سال کے پیغام میں چین کی چودھویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران حاصل کی گئی شاندار کامیابیوں کا جائزہ لیا گیا ، اور جن کلیدی الفاظ نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ جدت، اعلیٰ معیار کی ترقی اور نئی معیاری پیداواری قوت تھے۔ ان کے خیال میں چین کو مستقبل کے عظیم اہداف آخرکار حاصل ہوں گے۔بین الاقوامی شخصیات نے کہا ہے کہ صدر شی جن پھنگ کے نئے سال کے پیغام سے تبدیلی اور افراتفری سے بھری دنیا کو یقین اور مثبت توانائی ملی ہے اور دنیا مشترکہ خوشحالی کے حصول کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی منتظر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرابوظبی نائٹ رائیڈرز نے دبئی کیپٹلز کو شکست دےُکر فائنل کی راہ ہموار کر لی سی ڈی اے متاثرین کی بحالی اور آبادکاری کو قانونی تحفظ مل گیا،صدر آصف زرداری نے سی ڈی اے ترمیمی بل 2025ء پر دستخط... جموں کشمیر ہاوسنگ سوسائٹی اور گلبرگ گرین کا انضمام کیوں ضروری، سی ڈی اے نے وضاحت و تفصیلی بریفنگ کیلئے فریقین کو 5 جنوری... فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی میں نمایاں بہتری، سال 2025 میں بھرتیوں کا ریکارڈ بہتر وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی کرنے کی منظوری دیدی ڈیجیٹل دہشتگردی کیس: عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید و دیگر کو عمر قید کی سزا سوئٹزرلینڈ: بار میں آتشزدگی سے ہلاکتیں 47 ہوگئیں، آگ لگنے کی وجہ سامنے آگئی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے نئے سال کے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔