عارف حبیب نے پی آئی اے ملازمین کیلئے اہم پیغام جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو ایک بار پھر منافع بخش اور مضبوط ایئرلائن بنانا ان کی اولین ترجیح ہے، جبکہ ملازمین کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ادارے میں مستقبل کا دارومدار صرف کارکردگی پر ہوگا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے ملازمین کو مکمل تحفظ دیا جائے گا، کیونکہ ماضی میں انہی ملازمین کی محنت کی بدولت پی آئی اے دنیا کی کامیاب ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں رہنے کا حق اسی کو حاصل ہوگا جو کارکردگی دکھائے گا اور نتائج دے گا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ سندھ بھر میں منانے کا اعلان
عارف حبیب نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت پی آئی اے کا نام تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایک کروڑ 40 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں اور اگر ان کے اہل خانہ کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 7 کروڑ سے تجاوز کر جاتی ہے، جو ایک بڑی ممکنہ مسافر منڈی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے کو حج اور عمرہ آپریشنز میں خصوصی حیثیت حاصل ہے اور کوشش کی جائے گی کہ پاکستانی مسافر بیرونِ ملک سفر کے لیے پی آئی اے کو ہی ترجیح دیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سندھ جانے کی تیاری، دورہ کی تاریخ کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پی آئی اے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔