پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ن لیگ کے سینیئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی منظوری نہ ہوتی تو وزیراعظم شہباز شریف مذاکرات کی بات نہ کرتے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وزیراعظم نے مذاکرات پر نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو، محمود خان اچکزئی ہوں یا پی ٹی آئی کی دوسری قیادت، وہ ہمارے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈائیلاگ کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب تک عمران خان کی پالیسی ڈائیلاگ کی نہ ہو بات نہیں بن سکتی۔
یہ بھی پڑھیے: اس وقت مذاکرات کا کوئی ماحول نظر نہیں آ رہا، سلمان اکرم راجا
رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا ہے، علیمہ خان درست کہتی ہیں کہ مذاکرات کی بات کرنے والا ہم میں سے نہیں، مذاکرات کی راہ میں عمران خان ہی ہمیشہ رکاؤٹ رہے ہیں، اس کی ذمہ داری انہیں پر ہیں، پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔
عمران خان سے ملاقات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کی ان سے جیل میں ملاقات ہوئی اور اس کے بعد انہوں نے جو گفتگو کی اور ٹویٹ کیا اس سے کوئی فائدہ ہوا یا معاملات مزید خراب ہوگئے؟
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کو وزیراعظم کے ساتھ بیٹھنے کا کہا لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہم عمران خان سے اجازت لیے بغیر وزیراعظم کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، انہیں اپنے ‘گالم گلوچ بریگیڈ’ کا ڈر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: اپوزیشن مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کریگی تو وزیراعظم کا جواب مثبت ہوگا، رانا ثنا اللہ
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا دفتر ہر وقت ان کے لیے کھلا ہے، کسی بھی وقت جاکر وزیراعظم سے بیٹھنے کا وقت لے سکتے ہیں، 2018 سے 2024 تک دنیا میں پہلی بار ہوا کہ لیڈر آف دی ہاؤس نے لیڈر آف دی اپوزیشن سے ایک بار بھی ملاقات کی اور نہ ہی ہاتھ ملایا۔ ہم نے کسی کو سیاسی طور پر مائنس نہیں کی ہے، وزیراعظم نے آفر کی ہے اپوزیشن کو آکر ان کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن پی ٹی آئی حکومت ڈائیلاگ مذاکرات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن پی ٹی ا ئی حکومت ڈائیلاگ مذاکرات رانا ثنا اللہ وزیراعظم کے نے کہا
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔