data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250103-2-13

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکرٹری ساجد حسین مہیسر، نائب صدر ستار رند، مرکزی رہنما نور نبی پلیجو اور ایڈووکیٹ راحیل بھٹو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے دعوے مکمل طور پر جھوٹ اور حقائق چھپانے کی ناکام کوشش ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے حکومتی دور میں برسوں سے سندھ کے کچے اور پکے دونوں علاقے منظم انداز میں جرائم پیشہ عناصر، ڈاکوؤں، منشیات فروشوں اور اسلحہ مافیا کے حوالے ہیں۔ رہنماؤں کے مطابق سال 2025 کے دوران سندھ میں ہزاروں اغوا کے کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر اغوا، بھتہ خوری اور جبری گمشدگیوں کے ہزاروں واقعات سامنے آئے۔ اغوا شدہ افراد کی ویڈیوز بنا کر لواحقین سے کروڑوں روپے تاوان طلب کیا جاتا ہے۔عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ کا کچا علاقہ افغانستان میں نیٹو کی جانب سے چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں کی کھلی منڈی بن چکا ہے، جہاں اغوا، اسلحہ اور منشیات کا کروڑوں روپے کا کاروبار ہو رہا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود متعدد بیانات میں اعتراف کر چکے ہیں کہ سندھ کے کچے علاقوں میں نیٹو کے ہتھیار فروخت ہو رہے ہیں، لیکن اس اعتراف کے باوجود سندھ حکومت نے نہ کوئی تحقیقات کیں اور نہ ہی کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی۔رہنماؤں نے کہا کہ اغوا، اسلحہ اور منشیات کی سرِعام فروخت کے خلاف سندھ حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور وہاں حکومت کے بجائے سرداروں کا قانون نافذ ہے۔ یہ سردار خود کو اعلیٰ عدالتوں سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں اور لوگوں کے جینے مرنے کے فیصلے کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کی سرپرستی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو مکمل طور پر ڈاکوؤں، منشیات فروشوں، جرائم میں ملوث کرپٹ افسران اور ان کے سرپرست حکومتی سرداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ کسی شہری کو انصاف میسر نہیں، پولیس پیپلز پارٹی کے وڈیروں کی ذاتی ملازمہ بن چکی ہے۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے کہا کہ کے خلاف

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور