تقریبات میں کھانوں کا ضیاع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
شادیوں کی تقریبات میں موجودہ مہنگائی کے باعث اب بلائے جانے والے مہمانوں کی تعداد میں کمی ضرور واقع ہو رہی ہے، مگر شادی تقریبات میں کھانوں کو جان بوجھ کر ضایع کرنے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اورکھانے ضایع کرنے کا سلسلہ ویسے ہی برقرار ہے اورکھانا کھائے جانے کے بعد میزوں پر پڑی پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا ہماری اخلاقیات اور شرعی تقاضوں کا منہ چڑاتا ہے۔
عام نظر آتا ہے جو بعد میں کسی بھوکے کے منہ تک پہنچنے کے بجائے زیادہ ضایع ہوتا ہے اور اطلاعات کے مطابق ہوٹلوں کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ امیروں کی تو بات ہی کیا متوسط طبقے نے شادی کی تقریبات از خود بڑھا رکھی ہیں جو سراسر غیر شرعی اور ہندوانہ ہیں جو ہمارے مسلم معاشرے نے اپنا رکھی ہیں اور ان کے نزدیک شادی کا اہم جز ہیں اور ان اخراجات کے بغیر شادی ادھوری ہے اور وہ غیر شرعی تقریبات منعقد کر کے اپنی فیملی کی خوشی فراہم کرتے ہیں، جوکئی کئی روز تک جاری رہتی ہے اور ان میں لباسوں،کھانوں و دیگر پر اتنا ہی خرچہ ہو جاتا ہے جو شادی پر ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں تقریبات گھروں کے قریب شامیانوں میں منعقد ہوتی ہیں یا مال دار لوگ شادی ہال اور بینکوئٹ بک کراتے ہیں۔کچھ سال قبل کراچی میں غیر قانونی بنائے جانے کے الزام میں لاتعداد شادی ہالوں کو منہدم کیا گیا تھا، جن میں ایسے بھی تھے جو خالی جگہوں پر قبضے کر کے صرف چہار دیواری بنا کر شادیوں کی چھوٹی تعداد کی سہولت کے لیے تھے، جن کے کرائے عام شادی ہالوں سے کم تھے اور غریب لوگ جنھیں اپنے گھروں کے پاس جگہ میسر نہیں ہوتی تھی وہ کم پیسوں میں وہاں اپنی شادیاں کر لیتے تھے۔
اب مہنگے بینکوئٹ بھی بڑی تعداد میں بن گئے ہیں جو عام شادی ہالوں کے مقابلے میں بہت مہنگے ہیں اور وہ اے سی ہونے کے ساتھ بہترین سجاوٹ سے مزین ہوتے ہیں اور پوش علاقوں میں ان کا کرایہ پچاس لاکھ روپے تک وصول کیا جا رہا ہے اور باقی شادی ہالوں اور بینکوئٹس کے کرائے وہاں کے علاقائی لحاظ سے اور معیار کے مطابق مختلف ہوتے ہیں اور شادی کرنے والے اپنی مالی استطاعت کے مطابق وہ کرائے پر لے کر اپنی ضرورت پوری کر لیتے ہیں۔
امیر ترین لوگ اے سی بینکوئٹ، متوسط طبقہ شادی ہال اور غریب لوگ اپنے علاقوں میں ٹینٹ لگوا کر اپنی تقریب منعقد کر لیتے ہیں، مگر ان میں کھانوں کا ضیاع مشترک ہے۔ لاتعداد کھانوں والے مہنگے بینکوئٹ ہوں یا غریبوں کے ٹینٹوں میں منعقد تقریب میں صرف پلاؤ زردے پر غریبانہ کھانا ہر جگہ کھانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
امیرانہ تقریبات میں مدعو مہمان جو خود بھی امیر و کبیر اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، کھانا کھلتے ہی پہلے ان کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں جو اپنے گھروں میں آئے دن کھاتے یا کھا سکتے ہیں وہ اپنی پلیٹیں بھر لیتے ہیں اور اگر پسند نہ آئیں تو بھری پلیٹ چھوڑ کر دوسری پلیٹ اٹھا کر دوسرا من پسند کھانا اٹھا لیتے ہیں اور ان کی چھوڑی ہوئی پلیٹ میں موجود کھانا بعد میں ضایع کر دیا جاتا ہے۔ غریبانہ شادیوں میں ایک دو ڈش ہوتی ہیں اور جس کے ہاتھ کھانا نکالنے کا چمچہ لگ جائے وہ پلیٹ اس طرح بھرتا ہے کہ کہیں کھانا ختم نہ ہو جائے۔
ہر تقریب میں بچے بھی کھانا ضایع کرنے میں کم نہیں، وہ بھی پلیٹ اتنی بھر لیتے ہیں جتنا کھانا ان سے کھایا نہیں جاتا اور بچا ہوا کھانا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جن تقریبات میں کولڈ ڈرنک ہوتی ہے، وہاں کئی کئی بوتلیں اٹھا لی جاتی ہیں اور پوری بوتل ختم کیے بغیر باقی مشروب بوتلوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ شادیوں میں میٹھا عام طور پر کھانا کھانے کے بعد کھایا جاتا ہے مگر اکثر مہمان کھانے کے ساتھ ہی میٹھے سے پلیٹ بھر لیتے ہیں جو ان سے کھایا نہیں جاتا اور چھوڑ کر اگر میٹھے کی ڈش زیادہ ہو تو وہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ تقریبات میں آئس کریم دیگر میٹھوں کی طرح میزوں پر نہیں رکھی جاتی اور آئس کریم کی فراہمی چھری سے کاٹ کر پیس کی صورت میں دی جاتی ہے جو ضایع نہیں ہوتی اور باقی کھانوں کا پلیٹوں میں حشر نشر نظر آتا ہے۔
سیلانی ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر فاروق کے مطابق تقریبات میں صرف پچاس فی صد کھانا کھایا اور باقی 50 فی صد جان بوجھ کر ضایع کیا جاتا ہے جو شرعی طور پر بھی جائز نہیں مگر پھر بھی کھانا ضایع کرنے کا سلسلہ نہیں رک رہا جب کہ غریبوں کو سادہ روٹی بھی میسر نہیں ہے اور لاکھوں افراد بھوکے رہ جاتے ہیں۔ سمجھانے کے باوجود تقریبات میں کھانا ضایع کیا جاتا ہے، اگر مہمان حضرات تھوڑا خیال کر لیں اور اپنی پلیٹوں میں اتنا ہی کھانا ڈالیں جتنا وہ کھا سکتے ہیں تو کھانا ضایع ہونے سے بچ سکتا اورکھانوں کا انتظام کرنے والے میزبان صاف بچا ہوا کھانا ضرورت مندوں کو فراہم کر سکتے ہیں جب کہ میزوں پر پلیٹوں میں بچا ہوا کھانا ضایع ہوتا ہے جو بعد میں استعمال نہیں ہو سکتا۔
تقریبات میں میزبان اپنے مہمانوں کی تعداد سے زیادہ ہی کھانے پکواتے ہیں مگر مہمان جس طرح کھانا چھوڑکر بھری پلیٹیں چھوڑ دیتے ہیں۔ اس سے کھانا ضایع ہی نہیں ہوتا بلکہ کم بھی پڑ جاتا ہے اور میزبان کی بے عزتی کا باعث بنتا ہے مگر کھانا ضایع کرنے والوں کو احساس نہیں ہوتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تقریبات میں شادی ہالوں کھانا ضایع پلیٹوں میں ضایع کرنے کھانوں کا کے مطابق لیتے ہیں ہیں اور ضایع کر جاتا ہے نہیں ہو ہیں جو ہے اور اور ان
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :