جنوری1258 میں ہلاکو خان کی فوجیں بغداد کے نزدیک پہنچ چکی تھیں۔خلیفہ وقت المستعصم پوری شان وشوکت کے ساتھ دربار میں بیٹھا ہوا تھا۔ہلاکو خان کے ایلچی خلیفہ کے سامنے پیش ہوئے ۔ ہلاکوخان کا پیغام دیا کہ اگر آپ کسی بھی مزاحمت کے بغیر‘ بغداد ہمارے حوالے کر دیتے ہیں تو آپ کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔جان ومال کی حفاظت کی ضمانت دی جاتی ہے۔
عباسی خلیفہ نے اپنے وزیراعظم ابن علقمی کی طرف دیکھا ۔ وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جناب پوری اسلامی دنیا کے بادشاہ ہیں کسی بھی حملے کی صورت میں عالم اسلام کا ہر فرزند آپ کو بچانے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دے گا ۔ منگول سپہ سالار کو آپ کی اہمیت اور خاندانی پن کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے، بھلا منگولوں کی کیا جرأت کہ بغداد پر حملہ کرنے کا تصور بھی کر سکیں؟خلیفہ کو وزیراعظم کی لچھے دار تجویز پسند آئی اور ایلچیوں کو بے عزت کر کے دربار سے نکال باہر کیا۔
خلیفہ وقت کی حماقت سمجھئے یا وزیراعظم کی حد درجہ منفی تجویز گردانیے کہ آٹھ سو سالہ عباسی حکومت کا صرف ایک ہفتے میں نام و نشان مٹا دیا گیا ۔ دراصل وزیراعظم علقمی ‘ ہلاکو خان سے ساز باز کر چکا تھا، اس نے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے امان حاصل کر لی تھی۔نادان خلیفہ مکمل طور پر جنگی معاملات سے نابلد تھا ۔ اس بے وقوفی کا خمیازہ پورے شہر کو بھگتنا پڑا۔ لاکھوں مسلمان قتل کر دیے گئے ۔ ان گنت عورتوں کو منگولوں نے اپنے قبضہ میں کر لیا اور پورے شہر کو کھنڈر بنا دیا۔
ہلاکو خان کے سامنے جب خلیفہ کو پیش کیا گیا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے اور اس کے خاندان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ منگول روایت کے مطابق ‘ مفتوح بادشاہوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا۔ شاہی خاندان کے افراد کو بھی تلوار سے نقصان نہیں پہنچایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ہر ظلم رواں رکھا جاتا تھا۔ ہولناک تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ خلیفہ وقت کی بیٹیوں اور بیٹوں کے ساتھ جوسلوک کیا گیا‘ وہ لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ صرف المستعصم کے انجام کی بابت گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ منگول قانون کے مطابق بادشاہ کو ایک بیش قیمت قالین میں اس طرح لپیٹا گیا کہ وہ سانس نہ لے سکے ۔
اوپر ایک بہت بڑی میز بچھائی گئی جس پر اعلیٰ ترین ضیافت کا سامان رکھا گیا۔ ہلاکوخان اور اس کے سردار رات کو میز پر کھانے کے لیے بیٹھ گئے ۔ شراب اور شباب کا دور ساتھ ساتھ چل رہا تھا، منگول سرداروں کے قہقہوں کی آواز دور تک سنی جا سکتی تھی مگر اسی میز کے نیچے خلیفہ وقت سانس نہ لینے کی وجہ سے آہستہ آہستہ موت کی تکلیف دہ سیڑھیوں پر خاموشی سے چڑھ رہا تھا ۔ ضیافت صبح تک جاری رہی۔ رات کے کسی پہر میں جب منگول فتح کا جشن منا رہے تھے ‘ عین اسی وقت خلیفہ وقت زندگی سے موت کے سفر کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔ کسی نے بھی پرواہ نہیںکی کہ کم از کم یہ دیکھ لے کہ مفتوح بادشاہ کا کیا حال ہے ۔ اگلے دن منگول سپاہیوں نے قالین کو سیدھا کیا تو المستعصم کی لاش اندر موجود تھی ۔
خلیفہ کا چہرہ مرنے کے بعد مکمل طور پر نیلا ہو چکا تھا۔ لاش کو اس کے محل کے دالان میں پھینک دیا گیا ۔ مختلف تاریخ دان لکھتے ہیںکہ بغداد میں اتنے لوگوں کا قتل ہوا کہ ان کے مردہ جسم کی بدبو سے ہر طرح کی بیماریاں پھیلنے لگیں ۔ ہلاکو خان نے اس بدبو کی وجہ سے اپنے لشکر کا قیام تھوڑا سا اگلے مقام پر کر دیا۔ بغداد کبھی بھی دوبارہ اس شان و شوکت کا نظارہ نہ بن سکا جو عباسی خلیفہ کے دور اقتدار میں اس کی وجہ شہرت تھی ۔ دارالحکمت سے لاکھوں قلمی نسخے نذر آتش کر کے دریا برد کر دیے گئے۔ پانی کا رنگ سیاہی سے کالا ہو گیا ۔ گلیوں میں لوگوں کا خون اتنا جم گیا کہ منگول سپاہی لاشوں پر قدم رکھتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے تھے ۔ مسلمانوں کے اقتدار کا درخشاں ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
بغداد کی بربادی کے مطلق حد درجہ کم تفصیل لکھی ہے۔اس لیے کہ اتنی تباہی کو لکھتے ہوئے قلم لرز جاتا ہے۔ عرض کرنے کا مقصد صرف ایک ہے کہ حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا ان کی پوری سلطنت کو بھگتنی پڑتی ہے۔ بادشاہ کو لغزش کی گنجائش کسی بھی نظام میں نہیں دی جاتی۔لہٰذا انسانی تہذیب کے ارتقاء کی بدولت مغرب میں جمہوریت کی داغ بیل ڈالی گئی تاکہ حکمرانوں کے رویے تبدیل کیے جاسکیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف رعایا کی خوشحالی رہ جائے ۔
مغربی دنیا کی ترقی کی اصل وجہ وہ جمہوری نظام ہے جو کسی بھی حکمران کو غلطی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر کوئی بادشاہ یا طاقتور شخص کوئی حماقت کر بیٹھتا ہے تو اسے فوری طور پر مسند شاہی سے قانونی طور پر ہٹا دیا جاتا ہے۔ انسان کی حکمرانی کے طور طریقے ‘ دراصل وہ نسخہ کیمیا ہے جن کی بدولت مغربی ملک حیران کن ترقی کرچکے ہیں۔دنیا کا طاقتور ترین شخص یعنی امریکی صدر‘ اپنے آبائی شہر نیویارک میں بدترین سیاسی مخالف کے سامنے کوئی بند نہیں باندھ سکا۔ایک مسلمان نیو یارک کا میئر بن گیا یعنی امریکی حکومتی نظام میں یہ گنجائش نہیں ہے کہ وقت کا حکمران اپنے سیاسی مخالف کو منفی ہتھکنڈوں سے نقصان پہنچا سکے۔
مگر ترقی پذیر ممالک میں یہ معاملہ بالکل الٹ ہے ۔ سیاسی مخالفت ‘ ذاتیات کی آخری حد کو چھو جاتی ہے ۔ جھوٹی کردار کشی کی کوئی حد ہی متعین نہیں ہے۔ سیاسی مخالفین کو پابند سلاسل رکھنا معمول کی بات ہے اور انھیں قتل کرنا بھی بالکل حیران کن امر نہیں ہے۔ مسلمان دنیا کا المیہ ہی یہی ہے کہ یہاں پرامن انتقال اقتدار کا کوئی منظم طریقہ نظر نہیں آتا۔ بار بار عرض کر چکا ہوں کہ چودہ سو سال سے ‘ مسلمان سلاطین بادشاہ ‘ خلیفہ ‘ صدر اور وزرائے اعظم کسی بھی ایسے نکتے پر متفق نہیں ہو پائے جس سے مہذب انداز سے ایک حکمران کی جگہ دوسرا حکمران آ جائے۔ کہنے کو تو ہمارے جیسے ملکوں نے جمہوریت کا جعلی لبادہ اوڑھ لیا ہے مگر اس کے اصل جوہر سے شدید اجتناب کیا جاتا ہے۔ ہر وزیراعظم یا حکمران کسی بھی حالت میں تخت سے اترنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
مشرق وسطی میں تو خیر المناک بادشاہت ہے جوجبر کے ڈنڈے سے چل رہی ہے مگر وہ مسلمان ممالک جو قدرے جمہوری کہلاتے ہیں ‘ ان میں بھی شخصیت پرستی کا راج موجود ہے ۔ لیبیا‘مصر‘ عراق اور شام کی مثال سامنے رکھیئے ۔وہاں سال ہاسال کے لیے سرکاری اہلکار حکمران بنتے ہیں اور پھر مقتل میں جائے بغیر ان سے چھٹکارا حاصل نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں بھی جمہوری نظام دم توڑ چکا ہے۔ جس طرح کہ الیکشن یہاں کروانے کی رسم جڑ پکڑ چکی ہے‘ اس سے اجتماعی شرمندگی کے سوا کوئی عنصر سامنے نہیں آتا۔ کیا ایک شفاف الیکشن ہماری قوم کا حق نہیں ہے ؟کیا واقعی ہماری ناکامی کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے حکمران غلط طریقے سے تخت پر براجمان ہیں؟ اور انھیں اتارنے کا جمہوری طریقہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
طالب علم کی دانست میں پاکستان میں کوئی ایک بھی الیکشن مکمل طور پر مستند قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لوگ 1970کے الیکشن کی کافی مدح سرائی کرتے ہیں مگر شاید انھیں یہ علم نہیں کہ اس وقت کے خفیہ ادارے ‘ یحییٰ خان کو یقین دلا چکے تھے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکتی۔مگر عوام نے حق رائے دہی اس سنجیدہ شعور کے ساتھ استعمال کیا کہ شیخ مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو بھرپور سیاسی قوت کے ساتھ سامنے آ گئے ۔
ہٹ دھرمی کی انتہا دیکھیے کہ مقتدر طبقے نے اس الیکشن کے نتائج کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ پھر وہی ہوا جو بغداد میں ہوا تھا۔ تباہی ‘ ذلت اور خونریزی سے ہمارا ملک دولخت ہو گیا۔ مگر اس کی بنیاد کیا تھی۔ صرف ایک، کہ مقتدر طبقے نے بہت بڑی سیاسی غلطی کی۔ اقتدار زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والے لیڈر کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس کا خمیازہ بہت ہولناک تھا۔ جس طرح بغداد کی ہولناک تاریخ لکھنے سے قاصر ہوں، بالکل اسی طرح مشرقی پاکستان کی خونریزی بیان کرتے ہوئے بھی خاموش ہو جاتا ہوں۔
ِِخیر ہمارے ملک میں عوام کو اس قابل ہی نہیں سمجھا گیا کہ حکمران اپنی مرضی سے چن لیں ۔ مگر عوام نے وقت آنے پر ہمیشہ درست فیصلہ کیا ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ موجودہ حالات میں ہماری غیر سنجیدہ حکمت عملی سے ناقابل بیان نقصان ہو گا۔ بلکہ یہ کہنے دیجیے کہ نقصان ہو رہا ہے۔ پچھلے تین سال میں لاکھوں پاکستانی ملک سے ہجرت کر گئے ہیں۔
ان لوگوں کی اکثریت حد درجہ کامیاب پروفیشنلز کی ہے۔ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ اکاؤنٹنٹ ‘ اساتذہ اور آئی ٹی ایکسپرٹ سرفہرست ہیں۔ قیامت یہ ہے کہ مقتدر طبقے کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ ایسے لگتا ہے جیسے پچیس کروڑ عوام کوقالین میں لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ سسک سسک کے مر رہے ہیں۔ان کی آخری ہچکیاں ‘ حکمرانوں کے قہقہوں میں دب کر رہ گئی ہیں۔ اس قالین کے اوپر ہمارا مقتدر طبقہ ہلاکو خان اور اس کے سرداروں کی طر ح عظیم الشان دعوت کھانے میں مصروف ہے!
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خلیفہ وقت نہیں ہے کے ساتھ کسی بھی کے لیے
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔