مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ خود بانی پی ٹی آئی ہیں، مذاکرات کے لیے ابہام حکومت نہیں، دوسری طرف سے ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان" میں بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ وزیراعظم نے مذاکرات کی پیش کش کرنے سے پہلے نواز شریف یا اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں نہ لیا ہو۔
رانا ثناء نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دوسرے یا تیسرے درجے کی قیادت تو کہہ رہی ہے کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن جب تک بانی پی ٹی آئی کی ڈائیلاگ کی پالیسی نہیں ہوگی تب تک جتنی چاہے میٹنگ ہوتی رہیں بات نہیں بن سکتی، وہ کہتے ہیں مذاکرات کے لیے فلاں کو اجازت دے دی ہے جب کہ فیصلہ تو بانی پی ٹی آئی نے کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیدھی بات کریں کہ آپ مذاکرات کے حق میں نہیں اور تشدد چاہتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار کسی کو نہیں دیا، علیمہ خان نے بھی یہی کہا تھا کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ان میں سے نہیں ہے۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہیہ جام ہڑتال کا پیغام دیا ہے، کیا بانی پی ٹی آئی کی پچھلی ملاقات سے کوئی فائدہ ہوا ہے؟ پی ٹی آئی والے کیوں نہیں کہتے کہ وزیراعظم صاحب آپ کی پیش کش موصول ہوئی ہے بتائیں کس ٹائم آپ کے پاس حاضر ہوں، وزیراعظم نے تو یہاں تک کہا ہے کہ میرے پاس نہیں آتے تو اسپیکر چیمبر میں آئیں میں وہاں آجاتا ہوں۔
رانا ثناء نے کہا کہ وزیراعظم نے کوئی شرط نہیں رکھی یہ وزیراعظم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو آئیں ملاقات کریں، یہ اجازت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے تو وزیراعظم سے ملاقات میں یہ ہی بات کر لیں۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم نے بجٹ منظوری کے وقت بھی مذاکرات کی بات کی اس وقت بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی مذاکرات کی رانا ثناء نے کہا کہ
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔