تیل و گیس سپلائی چین ڈیجیٹائز یشن کی اشد ضرورت ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وزیراعظم محمد شہباز شریف کاکہناہے کہ ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہئیے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی مد میں خرچ ہونے والا زر مبادلہ بچایا جا سکے ۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن کے امور پر اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم کی زیر صدارت پیٹرولیم ڈویژن کے امور پر اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔
اجلاس کی شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہئیے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی مد میں خرچ ہونے والا زر مبادلہ بچایا جا سکے۔ انہوں نے وزیراعظم کی تیل و گیس سپلائی چین کو درآمد ہونے سے لے کر صارفین کے استعمال تک ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ تیل و گیس کی ترسیل کی سپلائی چین کی ڈیجیٹائز یشن سے ان مصنوعات کی سمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔
اجلاس کو پیٹرولیم و گیس سیکٹر کے روڈمیپ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (OGDCL) نے ضلع کوہاٹ میں ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت کر لئے ہیں۔
وزیراعظم کی ناشپا بلاک میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارکباد اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں کے کام کی تعریف کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ان ذخائر سے یومیہ 4100 بیرل تیل نکالا جا سکے گا۔
اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ اس سال سردی کے موسم میں گھریلو صارفین کو پچھلے سال کی نسبت بہتر پریشر کے ساتھ گیس مہیا کی جا رہی ہے ۔آر ایل این جی کے کنکشنز پر تیزی سے کام جاری ہے اور جون 2026 تک 350،000 کنکشنز کا ٹارگٹ مکمل کرلیا جائے گا۔شیوا گیس فیلڈ اور بٹانی گیس فیلڈ کے لئے پائیپ لائینز کو کمیشن کیا جا چکا ہے جبکہ کوٹ پالک گیس فیلڈ سے پائپ لائن پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وزیر پیٹرولیم ڈویژن علی پرویز ملک اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تیل و گیس اجلاس کو میں تیل گیس کے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔