data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران،واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا اور انہیں قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا مکمل طور پر تیار ہے اور فوری کارروائی کر سکتا ہے۔ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں،ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف  طاقت کا استعمال کیا تو امریکا خاموش نہیں رہے گا۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کے پیش نظر تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جلد اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ صدر نے اشارہ دیا کہ حالیہ حالات میں بیرونی قوتیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر عدم استحکام لانا چاہتی ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں مظاہرین پر تشدد کی صورت میں امریکی مداخلت پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم امریکا کی جانب سے دوسروں کو  ’بچانے‘ کے تجربات سے بخوبی واقف ہے، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان ہو یا غزہ۔علی شمخانی کے مطابق اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو اس کا جواب ایسا ہوگا جو پچھتاوا پیدا کرے گا۔سینئر ایرانی رہنما نے واضح کیا کہ ایران کی قومی سلامتی ایک سرخ لکیر ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطہ کسی بھی مہم جوئی یا اشتعال انگیز بیانات کا اسٹیج نہیں ہے۔ دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے جواب میں انگریزی زبان میں ایکس پر کہا کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں اب واضح ہو چکی ہیں۔علی لاریجانی نے کہا کہ ایران مظاہرہ کرنے والے تاجروں کے مؤقف اور ہنگامہ آرائی  کی کارروائیوں میں واضح فرق کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اس مہم جوئی کی ابتدا خود ٹرمپ نے کی ہے، لہٰذا انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔قبل ازیںایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی اور انسانی حقوق کی تنظیم، ہنگائو نے کہا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر لاردیگان میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران2 افراد ہلاک ہو گئے۔مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف تین برس میں سب سے بڑے احتجاج کے دوران کئی صوبوں میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مغربی ایران کے شہر لردیگان میں پولیس اور مسلح مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد مارے گئے۔ حقوق گروپ ہینگائو نے بھی لردیگان میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔لردیگان میں ہونے والی جھڑپیں، ایک سکیورٹی اہلکار کی رات گئے ہلاکت اور ایک مظاہرین کی موت، اتوار سے دکانداروں کے احتجاج کے بعد بے امنی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ مغربی شہر کوہدشت میں اس کی ذیلی بسیج رضاکار فورس کا ایک رکن امیرحسام ہلاک ہوا جب کہ 13 دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ہینگاؤ کے مطابق بدھ کو وسطی ایران کے صوبہ اصفہان میں بھی ایک مظاہرین جان سے گیا۔تاہم رائٹرز ان خبروں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔حکومت نے سیکورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق حکام تاجروں اور تجارتی یونینز کے نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کریں گے، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔گزشتہ کئی دنوں سے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ، دکاندار اور تاجر احتجاج کر رہے ہیں اور بڑے بازار بند کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے بدھ کو شدید سردی کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا۔صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو مظاہرین کے جائز مطالبات سننے کی ہدایت کی ہے۔علاوہ ازیںبی بی سی مانیٹرنگ کی جانب سے ایران میں جاری احتجاج سے جمع کی جانے والی تفصیلات میں سامنے آیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے یکم جنوری کو مختلف صوبوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔تہران کے مغرب میں ملارد کاؤنٹی میں حکام کے مطابق 30 افراد کو اس الزام میں حراست میں لیا گیا کہ انھوں نے شہریوں کے قانونی حقِ احتجاج کا ’غلط استعمال‘ کیا اور ’امن و امان کی صورتحال‘ کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق شمالی البرز صوبے میں حکام نے 14 افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد، پیٹرول بم تیار کرنے کا ایک جھوٹا کارخانہ چلا رہے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فارس نیوز نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ ’منظم اور تربیت یافتہ‘ تھا۔اسی دوران لرستان صوبے میں پراسیکوٹرز نے کوہداشت میں 20 مبینہ ’شدت پسند مظاہرین‘ کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر ’حکومت کے خلاف نعرے‘ لگائے اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔تاہم دوسری جانب ریاستی نشریاتی ادارے نے احتجاج کو یکسر نظرانداز کر رکھا ہے۔ایران کے سرکاری ٹیلی وژن اور ریڈیو نے گزشتہ روز کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر اپنے صبح کے بلیٹنز میں نہیں کیا۔دریں اثناء ایران کے شہر زاہدان میں اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالحمید اسماعیل زاہی نے جمعہ کے روز اپنے خطاب میں مْلک میں جاری حالیہ مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کی زندگی اور معاشی حالت شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو پْرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور حکومت کو مظاہرین کے ساتھ تشدد آمیز رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔انھوں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہم سب ایرانی ہیں،آج لوگ بھوک کا شکار ہیں اور بعض سرمایہ دار بھی سنگین مشکلات میں مبتلا ہیں۔ حکام کو چاہیے کہ عوام کی آواز سنیں اور اْن کے مطالبات پر غور کریں۔مولوی عبدالحمید نے مْلک میں رائج کوپن سسٹم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی اسکیمیں یا منصوبے کارآمد نہیں۔ حکام کو دیکھنا چاہیے کہ عوام کیا چاہتے ہیں، عوام کی راہ اور خواہش ہی معیار ہے، کسی کو اپنی رائے عوام پر مسلط نہیں کرنی چاہیے۔ایران کا ’کوپن سسٹم‘ ایک پرانا نظام ہے کہ جو وقتاً فوقتاً معاشی دباؤ اور پابندیوں کے دوران دوبارہ نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت کم آمدنی والے شہریوں کو ضروری اشیاء جیسے کھانے پینے کا سامان (تیل، چینی، گوشت، چاول) اور ایندھن سبسڈی کے ساتھ فراہم کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ پانچ روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے۔ مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ5 روز میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک6 مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔دوسری جانب بی بی سی ویریفائی نے حالیہ دنوں میں ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز کو جمع کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔حالیہ مظاہروں کے دوران پیش آنے والے حقیقی واقعات کی کچھ تصاویر ایسی بھی سامنے آئی ہیں، جو بظاہر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تبدیل کی گئی ہیں اور انھیں آن لائن پھیلایا جا رہا ہے۔ایک تصویر، جو ایک دن قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی، میں ایک پولیس اہلکار کو 2 افراد پر پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ گوگل کے SynthID اے آئی واٹرمارک ڈیٹیکٹر نے بتایا کہ یہ تصویر گوگل اے آئی کے ذریعے تیار یا ایڈیٹ کی گئی ہے۔یہ تصویر ایران کے شہر ہمدان کی ایک تصدیق شدہ فوٹیج پر مبنی ہے، جس میں پولیس کی واٹر کینن گاڑی کو سڑک پر مظاہرین پر پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اے آئی سے تبدیل شدہ ورژن میں ایک پولیس اہلکار کو قریب سے پائپ کے ذریعے 2 افراد پر براہِ راست پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اسرائیلی وزارتِ خارجہ سے اس بارے میں تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔قبل ازیںایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مظاہرین کی حمایت میں سامنے آنے والے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ایرانی عوام سے ہمدردی کے دعوے اس کے تاریخی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کْچھ پرانے واقعات کا ذکر کیا انھوں نے امریکاپر الزام لگایا کہ اس نے 1953 کو ڈاکٹر محمد مصدق کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کی، سنہ 1988 میں ایرانی مسافر طیارہ مار گرایا اور بے گناہ خواتین و بچوں کو قتل کیا اور 8 سالہ جنگ میں صدام حسین کی مکمل حمایت کی۔ اب وہ ’ایرانی عوام سے ہمدردی‘ کے بہانے حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آپس کی بات چیت اور ان کے حل کے لیے کسی بھی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔

 

 

 

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سکیورٹی فورسز ایران کے شہر ایرانی عوام مظاہرین پر مظاہرین کے کی جانب سے ایران میں ہوئے کہا کے دوران انھوں نے کے مطابق کہ ایران نے والے کے خلاف عوام کی ایکس پر اے ا ئی کی گئی گیا ہے کہا کہ کے لیے اور ان

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں