ایران میں مظاہرین پر تشدد نہ رکاتو کارروائی کریں گا، ٹرمپ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران،واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر تشدد کیا گیا اور انہیں قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کے لیے تیار ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا مکمل طور پر تیار ہے اور فوری کارروائی کر سکتا ہے۔ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں،ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو امریکا خاموش نہیں رہے گا۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں عوام سے اپیل کی کہ وہ حالات کے پیش نظر تحمل اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جلد اہم فیصلے کر سکتی ہے۔ صدر نے اشارہ دیا کہ حالیہ حالات میں بیرونی قوتیں ایران پر معاشی دباؤ بڑھا کر عدم استحکام لانا چاہتی ہیں۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں مظاہرین پر تشدد کی صورت میں امریکی مداخلت پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر مداخلت پسند ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔علی شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم امریکا کی جانب سے دوسروں کو ’بچانے‘ کے تجربات سے بخوبی واقف ہے، چاہے وہ عراق ہو، افغانستان ہو یا غزہ۔علی شمخانی کے مطابق اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو اس کا جواب ایسا ہوگا جو پچھتاوا پیدا کرے گا۔سینئر ایرانی رہنما نے واضح کیا کہ ایران کی قومی سلامتی ایک سرخ لکیر ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطہ کسی بھی مہم جوئی یا اشتعال انگیز بیانات کا اسٹیج نہیں ہے۔ دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے جواب میں انگریزی زبان میں ایکس پر کہا کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں اب واضح ہو چکی ہیں۔علی لاریجانی نے کہا کہ ایران مظاہرہ کرنے والے تاجروں کے مؤقف اور ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں میں واضح فرق کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دے گی اور امریکا کے مفادات کو نقصان پہنچائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اس مہم جوئی کی ابتدا خود ٹرمپ نے کی ہے، لہٰذا انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔قبل ازیںایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی اور انسانی حقوق کی تنظیم، ہنگائو نے کہا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر لاردیگان میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران2 افراد ہلاک ہو گئے۔مہنگائی میں شدید اضافے کے خلاف تین برس میں سب سے بڑے احتجاج کے دوران کئی صوبوں میں پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مغربی ایران کے شہر لردیگان میں پولیس اور مسلح مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد مارے گئے۔ حقوق گروپ ہینگائو نے بھی لردیگان میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔لردیگان میں ہونے والی جھڑپیں، ایک سکیورٹی اہلکار کی رات گئے ہلاکت اور ایک مظاہرین کی موت، اتوار سے دکانداروں کے احتجاج کے بعد بے امنی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ مغربی شہر کوہدشت میں اس کی ذیلی بسیج رضاکار فورس کا ایک رکن امیرحسام ہلاک ہوا جب کہ 13 دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ہینگاؤ کے مطابق بدھ کو وسطی ایران کے صوبہ اصفہان میں بھی ایک مظاہرین جان سے گیا۔تاہم رائٹرز ان خبروں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔حکومت نے سیکورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق حکام تاجروں اور تجارتی یونینز کے نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کریں گے، تاہم تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔گزشتہ کئی دنوں سے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ، دکاندار اور تاجر احتجاج کر رہے ہیں اور بڑے بازار بند کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے بدھ کو شدید سردی کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا۔صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر داخلہ کو مظاہرین کے جائز مطالبات سننے کی ہدایت کی ہے۔علاوہ ازیںبی بی سی مانیٹرنگ کی جانب سے ایران میں جاری احتجاج سے جمع کی جانے والی تفصیلات میں سامنے آیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے یکم جنوری کو مختلف صوبوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔تہران کے مغرب میں ملارد کاؤنٹی میں حکام کے مطابق 30 افراد کو اس الزام میں حراست میں لیا گیا کہ انھوں نے شہریوں کے قانونی حقِ احتجاج کا ’غلط استعمال‘ کیا اور ’امن و امان کی صورتحال‘ کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق شمالی البرز صوبے میں حکام نے 14 افراد کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ وہ دھماکہ خیز مواد، پیٹرول بم تیار کرنے کا ایک جھوٹا کارخانہ چلا رہے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک فارس نیوز نے دعویٰ کیا کہ یہ گروہ ’منظم اور تربیت یافتہ‘ تھا۔اسی دوران لرستان صوبے میں پراسیکوٹرز نے کوہداشت میں 20 مبینہ ’شدت پسند مظاہرین‘ کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر ’حکومت کے خلاف نعرے‘ لگائے اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔تاہم دوسری جانب ریاستی نشریاتی ادارے نے احتجاج کو یکسر نظرانداز کر رکھا ہے۔ایران کے سرکاری ٹیلی وژن اور ریڈیو نے گزشتہ روز کے احتجاجی مظاہروں کا ذکر اپنے صبح کے بلیٹنز میں نہیں کیا۔دریں اثناء ایران کے شہر زاہدان میں اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالحمید اسماعیل زاہی نے جمعہ کے روز اپنے خطاب میں مْلک میں جاری حالیہ مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کی زندگی اور معاشی حالت شدید مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو پْرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور حکومت کو مظاہرین کے ساتھ تشدد آمیز رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔انھوں نے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہم سب ایرانی ہیں،آج لوگ بھوک کا شکار ہیں اور بعض سرمایہ دار بھی سنگین مشکلات میں مبتلا ہیں۔ حکام کو چاہیے کہ عوام کی آواز سنیں اور اْن کے مطالبات پر غور کریں۔مولوی عبدالحمید نے مْلک میں رائج کوپن سسٹم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسی اسکیمیں یا منصوبے کارآمد نہیں۔ حکام کو دیکھنا چاہیے کہ عوام کیا چاہتے ہیں، عوام کی راہ اور خواہش ہی معیار ہے، کسی کو اپنی رائے عوام پر مسلط نہیں کرنی چاہیے۔ایران کا ’کوپن سسٹم‘ ایک پرانا نظام ہے کہ جو وقتاً فوقتاً معاشی دباؤ اور پابندیوں کے دوران دوبارہ نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت کم آمدنی والے شہریوں کو ضروری اشیاء جیسے کھانے پینے کا سامان (تیل، چینی، گوشت، چاول) اور ایندھن سبسڈی کے ساتھ فراہم کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشہ کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ لگ بھگ پانچ روز قبل شروع ہوا تھا جو بدستور جاری ہے۔ مظاہرین اور ایرانی سکیورٹی فورسز کے درمیان گذشتہ5 روز میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک6 مظاہرین اور ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔دوسری جانب بی بی سی ویریفائی نے حالیہ دنوں میں ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز کو جمع کرنے اور ان کی تصدیق کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔حالیہ مظاہروں کے دوران پیش آنے والے حقیقی واقعات کی کچھ تصاویر ایسی بھی سامنے آئی ہیں، جو بظاہر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تبدیل کی گئی ہیں اور انھیں آن لائن پھیلایا جا رہا ہے۔ایک تصویر، جو ایک دن قبل اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے فارسی زبان کے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی، میں ایک پولیس اہلکار کو 2 افراد پر پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ گوگل کے SynthID اے آئی واٹرمارک ڈیٹیکٹر نے بتایا کہ یہ تصویر گوگل اے آئی کے ذریعے تیار یا ایڈیٹ کی گئی ہے۔یہ تصویر ایران کے شہر ہمدان کی ایک تصدیق شدہ فوٹیج پر مبنی ہے، جس میں پولیس کی واٹر کینن گاڑی کو سڑک پر مظاہرین پر پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اے آئی سے تبدیل شدہ ورژن میں ایک پولیس اہلکار کو قریب سے پائپ کے ذریعے 2 افراد پر براہِ راست پانی چھڑکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اسرائیلی وزارتِ خارجہ سے اس بارے میں تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔قبل ازیںایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مظاہرین کی حمایت میں سامنے آنے والے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ایرانی عوام سے ہمدردی کے دعوے اس کے تاریخی ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتے۔انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کْچھ پرانے واقعات کا ذکر کیا انھوں نے امریکاپر الزام لگایا کہ اس نے 1953 کو ڈاکٹر محمد مصدق کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کی، سنہ 1988 میں ایرانی مسافر طیارہ مار گرایا اور بے گناہ خواتین و بچوں کو قتل کیا اور 8 سالہ جنگ میں صدام حسین کی مکمل حمایت کی۔ اب وہ ’ایرانی عوام سے ہمدردی‘ کے بہانے حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔اسماعیل بقائی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آپس کی بات چیت اور ان کے حل کے لیے کسی بھی بیرونی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سکیورٹی فورسز ایران کے شہر ایرانی عوام مظاہرین پر مظاہرین کے کی جانب سے ایران میں ہوئے کہا کے دوران انھوں نے کے مطابق کہ ایران نے والے کے خلاف عوام کی ایکس پر اے ا ئی کی گئی گیا ہے کہا کہ کے لیے اور ان
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔