چین، تائیوان کو ایک ہونے سے نہیں روکاجا سکتا‘صدر شی جن پنگ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260103-06-16
پیجنگ / اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ چین اور تائیوان کو ایک ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور تائیوان کا دوبارہ چین کے ساتھ الحاق ناگزیر ہے، آبنائے تائیوان کے دونوں جانب رہنے والے چینی عوام کے درمیان خون اور رشتہ داری کا تعلق ہے۔ نئے سال کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ مادرِ وطن کا دوبارہ اتحاد وقت کی پکار ہے اور یہ عمل روکا نہیں جا سکتا‘ چین ہمیشہ تاریخ کی درست سمت پر کھڑا رہا ہے اور قومی اتحاد کے عزم پر قائم رہے گا۔ایک بیان میں ترجمان دفترخارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ تائیوان کو چین کا اٹوٹ اور ناقابل تقسیم حصہ تسلیم کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔