موسم کی خرابی کے باعث 2 پروازیں منسوخ‘ 70 تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260103-06-18
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) موسم کی خرابی کے باعث 2 پروازیں منسوخ، ایک متبادل ائر پورٹ پر منتقل اور 70 پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔فلائٹ شیڈول کے مطابق کراچی سے لاہور کی قومی ائرلائن کی 2 پروازیں پی کے 302 اور 303 منسوخ ہوگئیں۔فلائٹ شیڈول میں بتایا کہ ریاض سے اسلام آباد کی غیر ملکی ائر کی پرواز ایف 3651 کو پشاور میں اتارا گیا ہے جبکہ لاہور کی 30، اسلام آباد کی 12، کراچی کی 10 اور ملتان کی 7، پشاور کی 3 سیالکوٹ، فیصل آباد اور اسکردو کی 2، 2، پروازوں میں تاخیر ہے۔فلائٹ شیڈول میں مزید بتایا ہے کہ کراچی سے اسلام آباد کی قومی ائرلائن کی پرواز پی کے 373 میں11 گھنٹے، ابوظہبی سے لاہور کی غیرملکی ائر کی پروازوں ای وائی 284 اور 285 میں 10 گھنٹے، لاہور سے مدینہ کی پرواز پی کے747 میں 8 گھنٹے، دمام کی پرواز پی کے 248 میں 4 گھنٹے جبکہ جدہ سے ملتان کی غیر ملکی ائر کی پروازوں ایس وی 801 اور 800 میں 4 گھنٹے کی تاخیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی پرواز
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔