دسمبر میں تاریخ کی بلند ترین ٹیکس وصولی: وزیر خزانہ کی مزید اضافے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دسمبر 2025ء میں تاریخ کی بلند ترین ٹیکس وصولی کا ریکارڈ بننے پر وزیر خزانہ نے سراہتے ہوئے ایف بی آر کو ٹیکس کلیکشن میں مزید اضافے کی ہدایت کی ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دسمبر 2025ء میں تاریخ کی بلند ترین ٹیکس وصولی پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کارکردگی کو حکومت کے مالیاتی اصلاحات کے ایجنڈے، بہتر ٹیکس تعمیل، مؤثر نفاذ اور ڈیجیٹل اصلاحات کی کامیابی کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔وزیر خزانہ نے وڈیو لنک کے ذریعے ٹیم ایف بی آر اور فیلڈ فارمیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دسمبر 2025ء کی وصولیاں نہایت حوصلہ افزا ہیں‘ معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن، کیش لیس لین دین کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر مضبوط نفاذِ قانون کی حکمت عملی نے عملی اور پائیدار نتائج دینا شروع کر دیے ہیں۔اس موقع پر وزیر خزانہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر نے دسمبر 2025ء میں 1,427.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیکس وصولی ایف بی ا ر
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔