پی آئی سی سال 2025ء میں پاکستان میں امراض قلب کے بڑے اسپتالوں میں سرفہرست
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے صرف ایک سال کے دوران دو ہزار 538 دل کے آپریشن کرکے پاکستان میں امراض قلب کے بڑے اسپتالوں میں سر فہرست رہا۔ دو ہزار سے زائد کئے گئے دل کے اپریشنز میں 316 بچوں کی اوپن ہارٹ سرجریز بھی شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سال 2025 میں پاکستان میں امراض قلب کے بڑے اسپتالوں کی لسٹ میں سرفہرست رہا ہے۔ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے صرف ایک سال کے دوران دو ہزار 538 دل کے آپریشن کرکے پاکستان میں امراض قلب کے بڑے اسپتالوں میں سر فہرست رہا۔ دو ہزار سے زائد کئے گئے دل کے اپریشنز میں 316 بچوں کی اوپن ہارٹ سرجریز بھی شامل ہیں۔ پی آئی سی ترجمان رفعت انجم کے مطابق پی آئی سی کی او پی ڈی میں ایک لاکھ 27 ہزار748 دل کے مریضوں کا معائنہ کیا گیا جن میں 22 ہزار 563 بچے بھی شامل ہے۔ سال 2025 کے دوران 19 ہزار 583 مریضوں کی انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی کی گئیں جبکہ ایک ہزار 222 بچوں کے دل کے سوراخ ڈیوائس کے ذریعے بند کیے گئے۔
اسپتال ایمرجنسی میں 23 ہزار 101 دل کے مریضوں کو لایا گیا۔ ترجمان کے مطابق پی آئی سی میں صحت کارڈ کے تحت مفت 28 ہزار 115 مریضوں کو انجیو گرافی، انجیو پلاسٹی ،دل کے آپریشنز اور دیگر علاج معالجہ فراہم کیا گیا۔ پی آئی سی نے صوبے میں ایڈوانس علاج بھی متعارف کروائے جس میں بغیر سینہ چاک کئے 37 ٹاوی اور 3 مائٹرل کلپ سرجریز کی گئیں۔ پی آئی سی میں دیگر صوبوں اور پڑوسی ملک افغانستان کے مریضوں کو بھی بہترین سہولیات دی گئیں۔ تقریباً 1200 افغان مریضوں کا او پی ڈی میں علاج معالجہ جبکہ 200 سے زائد کی انجیو گرافی، انجیو پلاسٹی اور دل کی سرجریز کی گئیں۔ سال 2025 میں ایک بار پھر پی آئی سی نے صوبے کا نام روشن کیا اور ایک دن میں 14 ٹاوی سرجریز کر کے پی آئی سی نے عالمی ریکارڈ بنا کر پاکستان کے لیے اعزاز حاصل کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پی ا ئی سی دل کے ا
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔