پولیس نے کچرا چننے اور بیچنے والے گروہ کے 4افراد کو گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق علی نظامانی کی ہدایت پر جی ٹی ایس امتیاز ضلع شرقی میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے افسران کی نشاندہی پر پولیس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے 4افراد کو گرفتارکیا ہے جس میں گروہ کا سربراہ غلام الدین عرف ماما پٹھان بھی گرفتار کیا گیا ہے جو ضلع شرقی اور کورنگی میں کچرا چننے اور بیچنے کا نیٹ ورک چل رہا تھا۔ایف آئی آر کورنگی انڈسٹریل ایریا تھانے میں درج کرادی گئی ہے۔ دیگر تفصیلات کے مطابق کچرا چننے کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث گروہ کے خلاف اور کچرا پھیلانے اورڈسٹ بن اور کھلے کچرے میں آگ لگا کر ماحول خراب کرنے والوں کے خلاف سیکشن 144 کے تحت قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے جبکہ نشاندہی پر مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ ایم ڈی سالڈ ویسٹ کی ہدایت پر ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا عمل جاری رہے گا جو کچرا اٹھانے کے کام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ شہر میں گندگی اور آلودگی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں یہ افراد ڈسٹ بن سے کچرا چننے کے بعد حاصل ہونے والا کارآمدکچرا بیچ دیتے ہیں اور باقی کچرا نالے یا کھلی جگہ پر پھینک دیتے ہیں جس سے شہر کی صفائی مسلسل متاثر ہورہی ہے۔ ایم ڈی سالڈ ویسٹ نے افسران کو ایسے گروہ اور افراد کی مزید نشاندہی کرکے پولیس کو اطلاع دینے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا جائے گا اورانکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سالڈ ویسٹ کچرا چننے کے خلاف
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔