ریٹائرڈ ملازم کی پینشن اور واجبات 60 روز میں ادا کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ملازم کے واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست پر ریٹائرڈ ملازم محمد اسماعیل کے پینشن اور واجبات 60 روز میں ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے پینشن اور واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔ جمعہ کو سندھ ہائی کورٹ میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ ملازم کے واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ فنڈز کی کمی ہے، مالی معاونت کے لئے وفاقی حکومت سے رجوع کیا جائے گا۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ یونیورسٹی کا جمع کروایا گیا جواب غیر تسلی بخش ہے، درخواست گزار کے واجبات تسلیم شدہ ہیں، یونیورسٹی نے تسلیم کیا کہ ریٹائرمنٹ کی مد میں 53 لاکھ سے زائد رقم واجب الادا ہے، ریٹائرڈ ملازم کے واجبات 60 روز میں ادا کیے جائیں۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ عدالت نے ریٹائرڈ ملازم محمد اسماعیل کے پینشن اور واجبات 60 روز میں ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے پینشن اور واجبات کی عدم ادائیگی سے متعلق درخواست نمٹا دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واجبات کی عدم ادائیگی واجبات 60 روز میں ادا پینشن اور واجبات ریٹائرڈ ملازم کے واجبات عدالت نے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔