ماڈل ٹائون میں ترقیاتی کام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سب سے پہلے میں محترم قائد امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن صاحب کا نہایت مشکور و ممنون ہوں جنہوں نے مجھ جیسے جماعت اسلامی کے ادنیٰ کارکن کو اتنے بڑے منصب کے قابل سمجھا یہ انہی کی مہربانی اور وژن کا نتیجہ ہے جس نے مجھے اتنا حوصلہ دیا کہ اپنی زمہ داری بحیثیت ٹاؤن چیئرمین کے سنبھال سکوں۔ ماڈل کالونی ٹاؤن 10 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل علاقہ ہے یہاں مختلف مکتبہ ہائے فکر، رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے افراد بستے ہیں، ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں ماڈل کالونی ٹاؤن ایک گلدستے کی مانند ہے جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مختلف رنگ و نسل کے پھول موجود ہیں۔ ایک ایسے ماحول میں کام کرنا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں اور یہ سبق مجھے میرے قائد امیر محترم حافظ نعیم الرحمن صاحب نے دیا ہے کہ مشکل سے مشکل حالات میں عوام کی خدمت کو ہر حال میں جاری رکھا جائے یہ حافظ نعیم الرحمن کا ویژن ہے جیسا کہ آپ سب کے علم میں ہے کہ ماڈل کالونی ٹاؤن میں آج سے ڈھائی سال پہلے کیا حالات تھے ایسی صورتحال میں جب عوام کی امیدیں بھی آپ سے وابستہ ہوں کہ آپ ہی ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں لیکن خدا کا لاکھ شکر ہے آج ڈھائی سال بعد میں ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے عوام کی خدمت کے جس سفر کا آغاز اپنے قائد محترم امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کے وژن پر ان کی ہدایت پر شروع کیا تھا وہ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور نظم کراچی کے تعاون سے کامیابی سے جاری ہے انشاءاللہ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا، سال 2026 ماڈل کالونی ٹاؤن میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا سال ہے، میں ماڈل کالونی ٹاؤن کی 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی ماڈل کالونی ٹاو ن حافظ نعیم الرحمن
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔