الخدمت کی خدمات کے 50 ویں سال میں داخل، منعم ظفر خان کا زبردست خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
تقریب سے خطاب کر تے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ الخدمت نے ملک میں آنے والے زلزلوں اور سیلابوں میں بھی کام کیا، کورونا کے وبا اور طوفانی بارشوں کے دوران بھی عوام کی خدمت کی، الخدمت کے رضاکار ہر جگہ پہنچے اور ملک وقوم کی خدمت کی، آج الخدمت خدمت کا عنوان بن چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ الخدمت کراچی اپنی خدمات کے پچاسویں سال میں داخل ہوگئی، اس سلسلے میں الخدمت کے مرکزی دفتر میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی امیر جماعت اسلامی منعم ظفر خان تھے۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو الخدمت نوید علی بیگ، سیکریٹری جماعت اسلامی حلقہ کراچی توفیق الدین صدیقی، نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر واسع شاکر ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی، مختلف پروگرامز کے ڈائریکٹر، شعبہ جات کے سربراہان، منیجرز اور کارکنان موجود تھے۔ تقریب میں الخدمت کی خدمات پچاس سال میں داخل ہونے کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور الخدمت کے ریویل لوگو (Reveal Logo) کی نقاب کشائی کی گئی۔
تقریب سے خطاب کر تے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ الخدمت نے 1976ء میں جماعت اسلامی کی خدمت کمیٹی کے نام سے خدمت کا سفر شروع کیا، اس وقت لوگوں کی ضروریات و مسائل کے پیش نظر مٹھی بھر آٹا اسکیم کا آغاز کیا گیا اور اس میں نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا، نوجوان گھر گھر جا کر آٹا جمع کرکے اسے کنستر میں محفوظ کرتے اور پھر اسے ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ منعم ظفرخان نے کہا الخدمت نے ملک میں آنے والے زلزلوں اور سیلابوں میں بھی کام کیا، کورونا کے وبا اور طوفانی بارشوں کے دوران بھی عوام کی خدمت کی، الخدمت کے رضاکار ہر جگہ پہنچے اور ملک وقوم کی خدمت کی، آج الخدمت خدمت کا عنوان بن چکی ہے، جہاں خدمت کا نام آتا ہے وہاں الخدمت پہلے موجود ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی کی خدمت کی الخدمت کے خدمت کا خدمت کے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔