اسلامی بینکاری صرف نام یا اصلاحات تک محدود نہیں رہنی چاہیے ،ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کراچی، کے چیئر مین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہاہے کہ اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے 23 دسمبر 2025 کو کہا کہ اسلامی بینکاری صرف نام یا اصطلاحات تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسلامی بینکوں کے تمام معاملات میں عملی طور پر اس کی جھلک بھی نظر آنی چاہیے۔ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے 2002 میں اسلامی بینک کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی تھی ’’یہ بینکاری کا ایسا نظام ہے جو اسلام کی روح، سماجی اخلاقیات اورنظریاتی نظام سے ہم آہنگ ہو اور اسلامی شریعہ کے اصولو ں کے تابع ہو۔‘‘ مگر یہ شرائط پوری نہ ہونے کے باوجود اسٹیٹ بینک ان کو 2002 سے اسلامی بینک قرار دیتا رہا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینک اس معیار پر پورا نہیں اترتے اورہم 2006 سے پہلے بھی تواتر سے مروجہ اسلامی بینکاری کو سود کے نقش پا پرمبنی اور غیر اسلامی قرار دیتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا یہ بیان پاکستان میں اسلامی بینکاری شروع ہونے کے 23 برس بعداورہماری کتاب ’’اسلامی بینکاری، غیر سودی یا سودی واستحصالی؟‘‘ کی ستمبر 2025 میں اشاعت کے بعد سامنے آیا ہے، مگر یہ امر افسوسناک ہے کہ اسٹیٹ بینک اس ضمن میں عملی اقدامات اٹھانے سیاب بھی گریزاں ہے۔ اسلامی بینکاری سے متعلق اس کتاب میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینک دراصل اسلامی بینک ہیں ہی نہیں، ان کی پروڈکٹس میں سود کی آمیزش ہوتی ہے اور اسلامی بینک اپنے کھاتے داروں کو سودی بینکوں کے مقابلے میں کم شرح سے منافع دے کر ان کا استحصال کررہے ہیں، اپنی فنانسنگ (قرضوں کا متبادل) میں مقاصد شریعہ کو نظر انداز کررہے ہیں اور ان کی سرمایہ کاری میں بھی بڑے پیمانے پرسود کی آمیزش ہوتی ہے۔ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ’’اسلامی بینکاری‘‘ کی ہماری کتاب میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ موجودہ اسلامی بینکوں کو فوری طور پر بلاسودی بینک قرار دیا جائے اور ان کی تمام مصنوعات اور کاروبار سے سورہ البقرہ کی آیت278 کے مطابق سود کا شائبہ بھی نہ رہنے دیا جائے، تب ہی ان کو غیر سودی بینک کہا جاسکے گا۔انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسٹیٹ بینک اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینکوں کوفوری طورپر اسلامی بینک کہنے سے روک دینا چاہیے،کیونکہ اس سے اسلام کے نام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے باوجود 2027 تک معیشت سے سود کے خاتمے کا قطعی کوئی امکان نہیں ہے اور حکومت، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی کی جانب سیسود پر مبنی پروڈکٹس کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔اگر ایسا ہواتو یہ ایک المیہ ہوگا اور آنے والی دہائیوں میںبھی اسلامی بینکاری کے نام پر سودی نظام کوہی فروغ دیا جاتا رہے۔ڈاکٹر شاہد نے علماء و مفتیان کرام سے درخواست کی کہ وہ بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی بینکاری کے کہ اسٹیٹ بینک اسلامی بینک ڈاکٹر شاہد کہ اسلامی کہا کہ
پڑھیں:
محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
اسلام آباد میں وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی۔ دونوں راہنماؤں کے درمیاں ملاقات میں خیبر پختونخوا میں امن عامہ کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے وفاقی وزیر داخلہ آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ اور گورنر کے پی کے نے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں قیام امن کیلئے سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔