data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260103-01-9

 

 

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے جمعہ کی شب ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کراچی کے منتخب مردوخواتین نمائندوں کے عظیم الشان بلدیاتی کنونشن سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک اور جدوجہد کے اثرات ملک بھر میں مرتب ہورہے ہیں اور پنجاب سمیت پورے ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام بنانے کی تحریک زور پکڑرہی ہے، کراچی میں جماعت اسلامی آج بھی سب سے بڑی جماعت اور عوام کی مؤثر وتوانا آواز ہے،پہلے بلدیاتی انتخابات میں اور پھر عام انتخابات میں کراچی میں عوام نے جماعت اسلامی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیالیکن بلدیاتی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو چھینا گیا،ہمارے میئر کا راستہ روکا گیااور عام انتخابات میں فارم 47کے ذریعے مسترد شدہ لوگوں کو مسلط کردیا گیا،جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے اور عوامی رائے عامہ کے ذریعے ہی ملک میں معاشرے اور پورے نظام میں حقیقی تبدیلی و انقلاب لانا چاہتی ہے،جماعت اسلامی نے ماضی میں جبر وتشدد،خوف اور دہشت گردی کے بدترین دور میں بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور عوام کے ساتھ کھڑی رہی،جماعت اسلامی نے ماضی میں بلدیاتی اداروں کے ذریعے عوام کی خدمت کی ہے،آج بھی جماعت اسلامی کے منتخب بلدیاتی نمائندے محدود وسائل و اختیارات کے باوجود عوام کی خدمت کررہے ہیں۔بلدیاتی کنونشن سے امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ،سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی نے بھی خطاب کیا،ٹاؤن چیئرمین لانڈھی عبد الجمیل خان نے درس قرآن دیا جبکہ ڈپٹی سیکرٹری کراچی انجینئر صابر احمدنے جماعت اسلامی کے 9ٹاؤنز کی رپورٹ ملٹی میڈیا پر پیش کی۔یوسی چیئرمینز نادر لودھی، امید علی قاضی اور جمشید نے بھی اپنی یوسیز میں کیے جانے والے ترقیاتی کاموں سے آگاہ کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ منتخب بلدیاتی نمائندے اپنے علاقوں کی حالت بہتر بنانے اور تعمیر و ترقی کے کاموں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ ملائیں،ٹاؤن کے تحت آنے والے اسکولوں اور مراکز صحت کو بہتر و فعال بنائیں تاکہ شہریوں کو تعلیم و صحت کی معیاری و سستی سہولیات میسر آئیں۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کا مقصد صرف انتخابات جیتنا نہیں بلکہ اقامت دین کی تحریک کو آگے بڑھانا،عدل و انصاف کے نظام کو قائم کرنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ ہم کسی سازش اور چور دروازے کے ذریعے سے انقلاب نہیں لانا چاہتے بلکہ عوام کی رائے سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ کراچی میں رائے عامہ کے سروے موجود ہیں، شہر میں فضا جماعت اسلامی کے حق میں ہی ہے۔پنجاب میں پنجاب کو اون کرنے کے لیے تو لوگ موجود ہیں لیکن سندھ میں کراچی کو کوئی اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پنجاب میں عوام کے پیسوں سے ناجائز طریقے سے کروڑوں روپے کے اشتہارات دیے جاتے ہیں اور کام میں اربوں روپے کی کرپشن کرتے ہیں۔ جنریشن ذی سے تعلق استوار کرنے کے لیے منتخب چیئرمین وائس چیئرمین اپنی پوزیشن کا استعمال کریں اور جماعت اسلامی میں شامل کریں۔ہمارے چیئرمین وائس چیئرمین کا مطمع نظر صرف کام ہونا چاہیے اقامت دین کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنے لیے دعوت دین کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ منعم ظفر خان نے کہاکہ 2026 کے سال میں تعمیر و ترقی کے کاموں میں مزید تیزی لائیں گے،ممبران کی تعداد میں اضافہ اور محلہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اس وقت شہر میں بے پناہ مسائل ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں، جو لوگ برسر اقتدار ہیں ان کا ماضی اور حال یہی ہے کہ کراچی سے جتنا ہوسکے لوٹو اور کھاؤ، کرپٹ اور نااہل حکمرانوں سے اچھے کی امید نہیں رکھی جاسکتی،گزشتہ کئی سال سے حق دو کراچی تحریک میں نہ صرف عوامی مسائل کو اجاگر کررہے ہیں بلکہ مسائل حل کرانے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ حق دو کراچی تحریک کے نتیجے میں شہریوں کا جماعت اسلامی پر اعتماد قائم ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہماری تمام تر سرگرمیاں نصب العین کی یاد دلاتی ہے، ہمارا نصب العین یہی ہے کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی رضا حاصل کی جائے۔  جماعت اسلامی کے کارکنان کی محنت ہے کہ جس کی وجہ سے عوام نے جماعت اسلامی سے توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔ بحریہ ٹاؤن، کے الیکٹرک، نادرا کے مسائل سمیت دیگر مسائل جماعت اسلامی نے مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ مسائل کے حل کے لیے ہم نے شہر بھر میں احتجاج کیے، دھرنے دیے اور عدالت کا راستہ بھی اختیار کیا۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی جیتی ہوئی سیٹوں کو چھیننے،عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کے باوجود آج شہر میں 1100منتخب بلدیاتی نمائندے جماعت اسلامی کے موجود ہیں اور عوامی خدمت و مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں،بلدیاتی حکومتوں میں جماعت اسلامی کی کارکردگی کا ماضی شاندار رہا ہے، نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ اور عبد الستار افغانی کے دور میں تعمیر و ترقی کے مثالی کام روشن مثال ہے، جماعت اسلامی کی حق دو کراچی تحریک نے شہر میں جماعت اسلامی کو ایک نیا اور نمایاں مقام عطا کیا ہے،اسی کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے لیکن یہ شہر کی بدقسمتی ہے کہ ہمارے 4ٹاؤنز اور یوسیز چھینی گئیں اور میئر کا راستہ روکا گیا،کراچی میں اگر ہمارا میئر ہوتا تو آج شہر کی یہ ابتر صورتحال نہ ہوتی۔

 

 

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات میں میں جماعت اسلامی جماعت اسلامی کی جماعت اسلامی کے کراچی تحریک کراچی میں کی تحریک نے کہاکہ کے ذریعے اور عوام عوام کی کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی