عام انتخابات سے قبل جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے مرکزی رہنما کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات سے قبل جماعتِ اسلامی کے مرکزی اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اے ایچ ایم حمید الرحمان آزاد کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ کاکس بازار کے حلقہ این اے–2 (مہیش کھالی–کوتوبدیا) کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا۔
ضلعی ریٹرننگ افسر اور ڈپٹی کمشنر محمد عبد المنان نے جمعہ کی شام اعلان کیا کہ حمید الرحمان آزاد نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اپنے خلاف زیرِسماعت توہینِ عدالت کے مقدمے کو ظاہر نہیں کیا، جس کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دیا گیا۔ تاہم انتخابی قوانین کے مطابق وہ مقررہ مدت کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے امیر کی طارق رحمان سے ملاقات، بی این پی کے ساتھ تعاون پر آمادگی کا اظہار
ریٹرننگ افسر کے مطابق کاکس بازار کے 2 حلقوں میں مجموعی طور پر 4 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی میں تضادات پائے گئے، جس کے باعث انہیں مسترد کیا گیا۔ تمام اپیلوں کی سماعت الیکشن کمیشن کرے گا۔
کاکس بازار–2 میں ابتدائی طور پر سات امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے تھے، تاہم جماعتِ اسلامی کے حمید الرحمان آزاد اور آزاد امیدوار غلام مولا کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد اب پانچ امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں، جن میں بی این پی، اسلامی اندولن، خلافت مجلس، گونو اودھیکار پریشد اور جاتیہ پارٹی کے امیدوار شامل ہیں۔
دوسری جانب کاکس بازار–1 (چاکریا–پیکوا) کے حلقے میں بھی اسلامی اندولن کے امیدوار سرور عالم کتو بی اور آزاد امیدوار سیف الاسلام کے کاغذات نامزدگی غلط معلومات کی بنیاد پر مسترد کر دیے گئے ہیں۔ اس حلقے میں اب تین امیدوار باقی ہیں، جن میں بی این پی کے سینئر رہنما صلاح الدین احمد اور جماعتِ اسلامی کے عبداللہ الفاروق شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کی قومی ائیرلائن کو براہ راست کراچی پروازوں کی اجازت
نظرثانی شدہ انتخابی شیڈول کے مطابق کاغذات کی منظوری یا مستردی کے خلاف اپیلیں 5 سے 9 جنوری تک دائر کی جا سکیں گی، فیصلے 18 جنوری تک ہوں گے، امیدوار 20 جنوری تک دستبردار ہو سکیں گے جبکہ انتخابی نشانات 21 جنوری کو الاٹ کیے جائیں گے۔ بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور ریفرنڈم 12 فروری کو ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کاغذات نامزدگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جماعت اسلامی کاغذات نامزدگی کاکس بازار بنگلہ دیش اسلامی کے کے کاغذات
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔