کراچی: مبینہ پولیس مقابلے کی فائرنگ کی زد میں آ کر رکشے میں سوار کمسن لڑکی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے کورنگی نمبر 6 میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہونے والی اندھا دھند فائرنگ ایک معصوم جان لے گئی، جہاں نامعلوم سمت سے آنے والی گولی چلتے رکشے میں سوار 17 سالہ طالبہ کو جا لگی اور وہ موقع پر ہی جانبر نہ ہو سکی، یہ افسوسناک واقعہ چراغ ہوٹل کے قریب پیش آیا، جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والی لڑکی کی لاش فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کی گئی، جہاں اس کی شناخت 17 سالہ کومل کے نام سے ہوئی، مقتولہ فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی اور گولی لگنے سے شدید زخمی ہونے کے باعث دم توڑ گئی۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کومل اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کے ہمراہ نانی کے گھر سے واپس آ رہی تھی۔ ان کے مطابق کورنگی نمبر 6 کی مارکیٹ کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ جاری تھا، جس دوران اچانک فائرنگ شروع ہو گئی اور ایک گولی رکشے میں آ کر لگی، جس نے کومل کی جان لے لی۔
خاندان نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں رکشہ ڈرائیور بھی بازو پر گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم وہ زخمی حالت میں کہاں چلا گیا، اس بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ مقتولہ کے والد نے بتایا کہ کومل دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اور اس کی ناگہانی موت نے پورے خاندان کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
دوسری جانب واقعے سے متعلق کورنگی نمبر 6 کی مارکیٹ میں مبینہ پولیس مقابلے کی ویڈیوز بھی سامنے آ گئی ہیں، جن میں فائرنگ اور علاقے میں پھیلی افراتفری دیکھی جا سکتی ہے۔ واقعے کے بعد شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مبینہ پولیس
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔