’اسٹرینجر تھنگز 5‘ کا فائنل: شائقین نیٹ فلکس پر برہم کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
نیٹ فلکس کو 31 دسمبر 2025 کی شام ’اسٹرینجر تھنگز‘ سیزن 5 کے آخری قسط کے آغاز کے دوران عارضی طور پر سروس میں خلل کا سامنا کرنا پڑا، جس سے دنیا بھر کے مداح پریشان ہو گئے۔
مداح جب فائنل ایپی سوڈ چلانے کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں ایک ایرر میسج نظر آیا جس میں کہا گیا، ’’کچھ غلط ہو گیا ہے‘‘، اور ہوم پیج پر موجود دیگر مواد دیکھنے کی تجویز دی گئی۔ چند منٹوں کے بعد صارفین ریفریش کے بعد ہی قسط دیکھ پائے۔
’اسٹرینجر تھنگز‘ ایک امریکی سائنس فکشن اور ہارر سیریز ہے جو 1980 کی دہائی کے چھوٹے شہر ہاکنز، انڈیانا کی کہانی بیان کرتی ہے۔ اس سیریز میں بچوں اور نوجوانوں کے کردار غائب ہونے والے افراد، مافوق الفطرت مخلوقات اور دنیا کے اپ سائیڈ ڈاؤن کے رازوں کا سامنا کرتے ہیں۔ پراثر کہانی، سنسنی اور دوستی و فیملی کے موضوعات نے اس شو کو عالمی سطح پر مقبول بنایا ہے۔
نیٹ فلکس کو سیزن 5 میں تکنیکی مسائل کا سامنا دوسری بار ہوا، پہلی بار یہ خلل 26 نومبر 2025 کو ابتدائی قسطوں کے دوران سامنے آیا تھا، حالانکہ نیٹ فلکس نے اس بار اضافی بینڈوڈتھ تیار کی تھی تاکہ زیادہ صارفین کے سبب کوئی مسئلہ نہ ہو۔
سوشل میڈیا پر مداحوں نے اس کریش پر شدید ردعمل ظاہر کیا اور فائنل ایپی سوڈ کے دوران سروس میں خلل آنے پر مایوسی کا اظہار کیا۔ یہ قسط دنیا بھر میں بے حد جوش و خروش کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ سیزن 5 تقریباً ایک دہائی پر محیط کہانی کا اختتام ہے اور مداح و ناقدین اپنے تاثرات شیئر کر رہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نیٹ فلکس
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔