معروف ہالی ووڈ اداکار کی 34 سالہ بیٹی کی ہوٹل کے کمرے سے لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹامی لی جونز کی بیٹی وکٹوریہ جونز کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ سان فرانسسکو کے ایک لگژری ہوٹل میں مردہ پائی گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 34 سالہ وکٹوریہ جونز کی لاش یکم جنوری کی علی الصبح فیئر مونٹ سان فرانسسکو ہوٹل کے ایک کمرے سے ملی۔
سان فرانسسکو فائر ڈیپارٹمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ یکم جنوری 2026 کو رات تقریباً 2 بج کر 52 منٹ پر ہوٹل سے طبی ایمرجنسی کی اطلاع موصول ہونے پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ طبی عملے نے ایک خاتون کا معائنہ کیا جسے موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا۔
بعد ازاں پولیس اور میڈیکل ایگزامینر کو طلب کر لیا گیا اور واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کو صبح تقریباً 3 بج کر 14 منٹ پر ہوٹل بلایا گیا تھا۔
ابتدائی اطلاعات میں کسی قسم کے تشدد یا مشتبہ سرگرمی کے شواہد نہیں ملے اور مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ فی الحال کسی فاؤل پلے کا شبہ ظاہر نہیں کیا جا رہا۔ تاہم موت کی حتمی وجہ ابھی سامنے نہیں آئی۔
وکٹوریہ جونز، ہالی ووڈ اداکار ٹامی لی جونز اور ان کی سابقہ اہلیہ کمبرلیا کلافلی کی بیٹی تھیں۔
وکٹوریہ نے کم عمری میں اداکاری کا آغاز کیا اور 2002 میں اپنے والد کے ساتھ فلم مین اِن بلیک 2 میں نظر آئیں۔
بعد ازاں وہ ون ٹری ہل اور دیگر فلموں میں بھی کام کر چکی تھیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔