بلوچستان: کیا ضلعی انتظامیہ کو پولیس کے اختیارات دے دیے گئے؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
بلوچستان میں کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دیے جانے کے حکومتی فیصلے نے صوبے میں ایک نیا قانونی اور آئینی تنازع کھڑا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چمن: ضلعی انتظامیہ نے افغان سرحد سے متصل علاقوں کے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی
جہاں صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے کیا گیا ہے وہیں بلوچستان بار کونسل نے اس فیصلے کو عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور صوبہ بھر میں عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومتی جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنر قانون کے تحت ایکس آفیشو جسٹس آف دی پیس کے اختیارات رکھتے ہیں جن کا مقصد عوامی شکایات پر فوری اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعات 22 اے اور 22 بی کے تحت ڈپٹی کمشنرز پولیس کے انتظامی امور میں نگرانی کا کردار ادا کرتے ہیں تاکہ قانون پر درست اور منصفانہ عملدرآمد ہو سکے۔
ان اختیارات کے تحت وہ قابل دست اندازی جرم کی صورت میں ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات دے سکتے ہیں، پولیس کی جانب سے غیر ضروری تاخیر یا انکار پر قانونی ہدایات جاری کر سکتے ہیں اور شہریوں کو پولیس کی زیادتی یا ہراسانی سے تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: لیہ کی خاتون ایم پی اے کی ضلعی انتظامیہ کے ہاتھوں تذلیل، معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا
تاہم حکومتی سطح پر یہ وضاحت بھی سامنے آئی ہے کہ انتظامی افسران کو عدالتی یا پولیس کے مکمل اختیارات نہیں دیے گئے۔
اختیارات صرف عوامی شکایات پہنچانے اور اندراج کروانے تک محدود ہیں، حمزہ شفقاتایڈیشنل سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اختیارات صرف عوامی شکایات کو پولیس تک پہنچانے اور ایف آئی آر کے اندراج کے لیے ہدایات دینے تک محدود ہیں۔
حمزہ شفقات کے مطابق نہ کوئی عدالتی کارروائی کی جائے گی، نہ کسی قسم کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی اور نہ ہی انتظامی افسران تفتیش میں براہ راست مداخلت کریں گے۔
بلوچستان بار کونسل کی حکومت پر تنقیددوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حکومت کے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین رحمت اللہ بڑیچ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی راجب خان بلیدی ایڈووکیٹ اور ممبر ایگزیکٹو کمیٹی امان اللہ خان کاکڑ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ دفعہ 22 اے اور 22 بی کے اختیارات ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز سے لے کر ایگزیکٹو افسران کو دینا عدلیہ کی خودمختاری پر کاری ضرب ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان پولیس میں اصلاحات، سیکیورٹی اور ویلفیئر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، آئی جی محمد طاہر
ان کے مطابق یہ فیصلہ انتظامیہ کو عدالتی اختیارات سونپنے کے مترادف ہے، جس سے پولیس دو متوازی اتھارٹیز، یعنی عدلیہ اور انتظامیہ، کے احکامات کی پابند ہو جائے گی جو انتظامی انتشار اور آئینی تضاد کو جنم دے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی عدلیہ سے اختیارات لے کر انتظامیہ کو دینے کی کوشش کی گئی تھی جسے بلوچستان ہائیکورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے (کامران ملائیل بنام حکومت بلوچستان) میں کالعدم قرار دیا تھا۔
بار کونسل کے مطابق حالیہ نوٹیفکیشن بھی اسی زمرے میں آتا ہے اور یہ اقدام ’اختیارات کی علیحدگی‘ کے بنیادی آئینی اصول کے منافی ہے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جسٹس آف پیس کا مقصد شہریوں کو پولیس کی زیادتی یا کوتاہی کے خلاف ایک غیر جانبدار عدالتی فورم فراہم کرنا تھا مگر انتظامی افسران چونکہ حکومت وقت کے نمائندے ہوتے ہیں اس لیے ان سے غیر جانبدار عدالتی کردار کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ان کے مطابق یہ فیصلہ ریاستی انصاف کو انتظامی خواہشات کے تابع کرنے کے مترادف ہے۔
کونسل کا آج احتجاج کا اعلاناسی احتجاج کے سلسلے میں بلوچستان بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ 3 جنوری بروز ہفتہ صوبہ بھر میں عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور اس فیصلے کے خلاف ہر ممکن قانونی اور آئینی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان میں لیویز کا پولیس میں انضمام، تجویز کس کی تھی؟
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی سہولت اور فوری انصاف کے لیے کیے گئے اس اقدام پر تمام تحفظات کو دور کرنے کے لیے مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتظامیہ اور پولیس بلوچستان بلوچستان میں ضلعی انتظامیہ کو پولیس کے اختیارات پولیس کے اختیارات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتظامیہ اور پولیس بلوچستان پولیس کے اختیارات بلوچستان بار کونسل انتظامی افسران ضلعی انتظامیہ کے اختیارات انتظامیہ کو پولیس کے کو پولیس کے مطابق جائے گی کے لیے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔