نیپال میں لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے سے پھسل گیا، 55 مسافر محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
نیپال کے شہر بھدرپور میں لینڈنگ کے دوران ایک مسافر طیارہ رن وے سے آگے نکل گیا، تاہم خوش قسمتی سے طیارے میں سوار تمام 55 افراد محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:’جین زی‘ کے احتجاج نے نیپال کی معیشت کو بٹھا دیا، 586 ملین ڈالرز کا نقصان
بُدھا ایئر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اے ٹی آر 72-500 طرز کا ٹربوپروپ طیارہ آج کھٹمنڈو سے بھدرپور پہنچا تھا۔ لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے سے تقریباً 200 میٹر آگے ایک نالے کے قریب جا رکا، جس کے باعث اسے معمولی نقصان پہنچا۔
Big News: ਸਵਾਰੀਆਂ ਨਾਲ ਭਰੇ ਹਵਾਈ ਜਹਾਜ਼ ਨਾਲ ਲੈਂਡਿੰਗ ਵੇਲੇ ਹੋ ਗਿਆ ਹਾ/ਦ/ਸਾ, ਅੱਧੀ ਰਾਤ ਨੂੰ ਮੱਚ ਗਿਆ ਚੀਕ ਚਿਹਾੜਾ !#airport #aeroplane #pessangers #PunjabiNews #LatestNews #DailypostTV pic.
— DailyPost TV (@DailyPostPhh) January 3, 2026
طیارے میں 51 مسافر اور 4 عملے کے ارکان سوار تھے، اور تمام افراد محفوظ رہے۔ ایئرلائن کے مطابق واقعے کے بعد کھٹمنڈو سے تکنیکی اور امدادی ٹیمیں بھدرپور روانہ کر دی گئی ہیں۔
فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اس پرواز کا نمبر 9N-AMF تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
واضح رہے کہ نیپال میں فضائی حفاظت پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ جنوری 2023 میں پوکھرا میں یتی ایئرلائن کا اے ٹی آر 72 طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں تمام 72 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ جولائی 2024 میں بھی ایک اور فضائی حادثہ پیش آ چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جہاز پھسل گیا رن وے فضائی حادثہ نیپال
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جہاز پھسل گیا رن وے نیپال لینڈنگ کے دوران
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔