وزیراعظم کی آزاد کشمیر میں ہیلتھ کارڈ سہولت کے آغاز کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ویب دیسک: آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِاعظم فیصل ممتاز راٹھور نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ پورے خطے میں ہیلتھ کارڈ کی سہولت فوری طور پر فعال کی جائے تاکہ عوام کو صحت کی معیاری سہولیات تک بروقت رسائی حاصل ہو سکے۔
مظفرآباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے ہیلتھ کارڈ منصوبے کو عوامی فلاح کا ایک اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سہولت سے غریب اور متوسط طبقے کو مالی دباؤ کے بغیر علاج معالجے کی سہولیات میسر آئیں گی اور صحت کے مجموعی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند، الرٹ جاری
وزیرِاعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے شہری باوقار اور معیاری طبی علاج حاصل کر سکیں گے، جو معاشرے کے تمام طبقات کے لیے سستی اور قابلِ رسائی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔
انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے سے جڑے تمام انتظامی اور تکنیکی معاملات فوری طور پر مکمل کیے جائیں اور ہیلتھ کارڈ خدمات کے آغاز میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔ وزیرِاعظم نے واضح کیا کہ عوامی ریلیف کے منصوبے حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں کیونکہ ان کا براہِ راست فائدہ عام شہریوں کو پہنچتا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ عالمی امن و استحکام میں اپنا کردار ادا کیا: پاکستانی سفیر
واضح رہے کہ پاکستان کے دیگر حصوں میں ہیلتھ کارڈ کی سہولت مثبت نتائج دے چکی ہے، جس کے باعث طبی اخراجات میں نمایاں کمی اور صحت کی سہولیات تک عوام کی رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں اس اسکیم کا اجرا قومی سطح پر سماجی تحفظ اور صحت کی کوریج کو فروغ دینے کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ہیلتھ کارڈ صحت کی
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔