بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کے لیے سفارشات طلب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم نے بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کے لیے سفارشات طلب کرلیں اور ہدایت دی کہ سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے برآمدات کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جائے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نئے سال کے پہلے دن وزیراعظم کی زیر صدارت معیشت سے متعلقہ تمام وزارتوں میں جاری انتظامی، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری میں اضافہ کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، مشیر رانا ثناء اللہ، معاون خصوصی ہارون اختر، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، نیشنل کوآرڈی نیٹرز، ایس آئی ایف سی کے حکام اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ تمام وزارتیں اپنے شعبوں سے متعلقہ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سفارشات جلد از جلد مرتب کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ اقتصادی اصلاحات پر مبنی معاشی گورننس کی پالیسی پر تمام وزارتوں کی طرف سے مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے، سرمایہ کاروں کی آسانی کے لیے ادارہ جاتی اور انتظامی سہولیات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم نے بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کے لئے سفارشات طلب کرلیں اور ہدایت دی کہ سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے برآمدات کے شعبے کی ترویج کی تجاویز اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے، موثر معاشی اصلاحات اور مجموعی معاشی ترقی کے لیے تمام وزارتوں کی باہمی ہم آہنگی اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا باہمی تعاون کلیدی کردار رکھتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے متعلقہ وزارتیں دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مؤثر تعاون کریں، سرمایہ کاری کے لیے پاکستانی سفارت خانوں میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات اور دیگر اہم معلومات کی ابتدائی آگاہی کو یقینی بنایا جائے، وزارتیں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے صنعتی پیداوار، زراعت اور دیگر تمام اہم شعبوں پر یکساں توجہ دیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سرمایہ کاروں بیرونی اور
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔