وفاقی آئینی عدالت کی نیشنل بینک کو 79 کروڑ روپے کی دوبارہ سرمایہ کاری کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کو پہلا باقاعدہ حکم جاری کرتے ہوئے 79 کروڑ 42 لاکھ روپے کی رقم واپس طلب کرنے اور اسے دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ٹریژری بلز میں لگانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ رقم کی منتقلی کے بعد اسے نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے ٹریژری بلز میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے۔ عدالت نے رجسٹرار کو اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی تاکہ اس عمل میں کوئی تاخیر نہ ہو۔
نیشنل بینک حکام کے مطابق عدالت کے حکم کے بغیر اس رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری ممکن نہیں تھی، عدالت کے مطابق یہ سرمایہ کاری 4 ستمبر 2025 کو ٹریژری بلز میں کی گئی تھی اور 27 نومبر 2025 کو میچیور ہو چکی تھی۔
یہ حکم ایس بی کمپلیکس اونرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیا گیا، چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی، اور اس کے بعد معاملہ فروری 2026 کے پہلے ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالت کی نگرانی میں سرکاری خزانے کی رقم کی منتقلی اور سرمایہ کاری میں شفافیت اور احتساب کا عمل جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دوبارہ سرمایہ کاری
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔