پی ٹی سی ایل کی یو مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ میں 15 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
پی ٹی سی ایل گروپ نے یو مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ میں 15 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی منظوری دیدی ہے۔
پی ٹی سی ایل جو یو مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ (یو بینک) کی پیرنٹ کمپنی ہے، کی جانب سے یو بینک میں 15 ارب روپے، تقریباً 53 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دیدی ہے۔
یہ سرمایہ کاری مائیکروفنانس بینکنگ انڈسٹری میں ہونے والی سب سے بڑی ایکویٹی سرمایہ کاری میں سے ایک ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد یو بینک کی مسلسل اور پائیدار ترقی کو سہارا دینا اور اس کے ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارم کی ترقی کو ممکن بنانا ہے تاکہ صارفین تک رسائی اور خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
یو مائیکرو فنانس بینک کے چیئرمین اور پی ٹی سی ایل گروپ کے سی ای او حاتم باماتراف نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری یو بینک کی ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمتِ عملی پر گروپ کے اعتماد اور مائیکروفنانس بینکنگ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیت کی عکاس ہے۔
یو مائیکرو فنانس بینک کے صدر وسی ای او طوران آصف نے پی ٹی سی ایل گروپ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مسلسل معاونت اور رہنمائی پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ایک نہایت اہم مرحلے پر کی گئی ہے، جب بینک 2026 میں اپنی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بینک ٹرانسفارمیشن کی حکمتِ عملی جدت، اور نئی مصنوعات و خدمات کے اجراء پر مرکوز ہے، جن کا مقصد ملک بھر میں لاکھوں صارفین کے لیے مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دینا ہے۔ٍ
یو بینک کو 4 ارب روپے کی پہلی قسط 31 دسمبر 2025 کو موصول ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یو مائیکرو فنانس بینک پی ٹی سی ایل سرمایہ کاری ارب روپے یو بینک
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔