سندھ حکومت کو اربوں روپے کا چونا لگانے کا انکشاف؛ ٹھیکدار اور کمپنی کیخلاف تحقیقات شروع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
سندھ حکومت کے مختلف محکموں کو اربوں روپے کا چونا لگانے والے ٹھیکیدار اور اس کی کمپنی کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق میںسرز علی حسن سول اینڈ الیکٹریکل ورک کی جانب سے مختلف محکموں کے کروڑوں روپے کے ٹھیکے حاصل کیے گئے مگر سرزمین پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران مجموعی طور پر اربوں روپے کے ٹھیکے حاصل کیے گئے۔ محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سےکمپنی کے مالک عرفان شیخ اور غفران شیخ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئیں۔
تحقیقاتی افسر کی جانب سے ایجوکیشن ورکس، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ،محکمہ ورکس اینڈ سروسز، کے ایم سی اور دیگر محکموں کے چیف انجینیئرز کو خطوط لکھ دیے گئے۔
خط میں تحقیقاتی افسر نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران کمپنی کو کتنے ٹھیکے دیے گئے کتنا کام مکمل کیا گیا اور ادا کی گئی رقم کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
خط میں مزید کہا گیا کہ کمپنی کو ادائیگیاں کس ایگزیکٹو انجینیئر کی جانب سے کی گئی ان کی بھی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی جانب
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔