دسمبر میں ایف بی آر کی ریکارڈ ٹیکس وصولی، ماہانہ ہدف کے قریب ترین کارکردگی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے دسمبر کے مہینے میں ٹیکس وصولی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
ایف بی آر نے کسی بھی سال کے دسمبر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیکس ریونیو جمع کیا، جو ادارے کی تاریخ کی نمایاں کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
ایف بی آر حکام نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دسمبر میں 1427 ارب 10 کروڑ روپے ٹیکس ریونیو جمع کیا گیا، جو 1446 ارب روپے کے ماہانہ ہدف کا 99 فیصد بنتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اب تک دسمبر کے مہینے میں ہونے والی سب سے زیادہ وصولی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان لینڈ ریونیو سروس نے بھی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 1310 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1308 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، جو 99.
حکام کے مطابق نومبر کے مقابلے میں دسمبر کے دوران ٹیکس وصولی میں 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر میں ٹیکس وصولی 898 ارب روپے تھی جو دسمبر میں بڑھ کر 1427.1 ارب روپے تک پہنچ گئی، جسے مالی سال کی ایک بڑی پیش رفت کہا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹیکس وصولی دسمبر کے ارب روپے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔