Islam Times:
2026-06-02@23:40:28 GMT

کچھ خبریں ایران میں ہونیوالے مظاہروں کی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

کچھ خبریں ایران میں ہونیوالے مظاہروں کی

اسلام ٹائمز: فارس نیوز کے صحافیوں کی رپورٹوں کا خلاصہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ پرامن احتجاجی اجتماعات میں تیزی سے کمی آئی ہے، لیکن مخصوص سیاسی مقاصد اور غیر ملکی مال اور میڈیا کی مدد سے چھوٹے اور منظم گروہ تشدد، ہتھیاروں اور تباہی کا سہارا لے کر عوامی سلامتی اور امن کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زیادہ تر علاقوں میں لوگوں نے شعوری طور پر ان پرتشدد کارروائیوں کا ساتھ دینے سے گریز کیا ہے۔ نماز جمعہ کے بعد کئی شہروں میں فسادیوں کیخلاف ریلیاں نکالی گئیں۔ عام لوگوں نے اپنے آپکو فسادیوں سے الگ کرلیا ہے۔ عوامی سطح پر ان شرپسندوں سے دوری اختیار کی جا رہی ہے، جو ایرانی معاشرے کے نظم و نسق کیخلاف کام کر رہے ہیں۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

اس رپورٹ میں جمعہ کے دن ایران کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں کچھ حقائق بیان کئے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ جو ماحول صیہونی امریکی میڈیا نے بنا رکھا ہے، حقائق اس سے مطابقت نہیں کھاتے۔ تہران میں پرہجوم اور مظاہروں کے لیے مشہور چوکوں مثلاً ہفتِ حوض، نازی آباد، ستار خان اور خاکِ صفد محلے میں 13 رجب کی شب عید کی شاپنگ میں مصروف خاندانوں اور مالز میں موجود گاہکوں کے ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ شرپسندوں نے نعرے لگائے، لیکن کسی نے ان  کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور انہی چند لوگوں کی طرف سے کچھ نعرے سننے کو ملے، جو بہت جلد ختم ہوگئے۔

ادھر ایران کے مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں میں بڑے پیمانے پر عوامی اجتماعات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ جو مشاہدہ کیا گیا ہے، وہ مٹھی بھر فسادی گروہوں کی نقل و حرکت ہے، جن میں بعض کے پاس سرد یا آتشی ہتھیار بھی دیکھے گئے۔ بعض آگ لگانے پٹرول بموں سے لیس تھے اور انہوں نے بعض سرکاری، انتظامی اور عوامی مقامات کے علاوہ مساجد پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر علاقوں میں عام لوگوں نے اپنے آپ کو ان پرتشدد کارروائیوں سے دور کر لیا ہے۔

تنازعات اور تشدد کے گذشتہ دن کے گڑھ:
حرسین، کرمانشاہ: دہشت گردی کی کارروائی میں چھ رکنی مسلح گروہ نے بسیج کے رکن علی عزیزی کو چاقو کے وار کرکے قتل کر دیا۔ اس کے علاوہ، تقریباً 200 فسادیوں نے شہر میں مختلف جگہوں کو آگ لگا دی۔ کرمانشاہ: 150 افراد تخریبی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ جو کچھ دیر کے بعد عوامی حمایت میسر نہ آنے پر منتشر ہوگئے۔ ایلام شہر میں پچاس پچاس کے گروپوں میں تقریباً 300 افراد نے پٹرول بم پھینک کر، سڑکیں بند کرکے اور ہتھیاروں کی نمائش کرکے عدم تحفظ کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ہمدان سے آتشزدگی کے ساتھ اجتماعات، سڑکیں بلاک کرنے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم کو نذر آتش کرنے کی اطلاع ملی ہے۔

قم میں پل امینی بیات اور اس کے ملحقہ محلوں اور توحید اسکوائر میں عوامی املاک کی تباہی اور سڑکوں کی بندش کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قم میں ایک شخص کے قتل ہونے کی بھی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ کوہدشت اور مارودشت کے علاقے میں امیر حسام خدادادی اور شیروانی کے جنازوں کے موقع پر سخت نعرے لگائے گئے۔ نیز، فسادی گروپ نے، ایک عالم پر حملہ کرنے کے علاوہ، مارودشت میں پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا، جسے پولیس افسران کی چوکسی نے ناکام بنا دیا۔ چہار محل بختیاری: جھنقان، فرسان اور پردانجن میں تقریباً 150 لوگوں پر مشتمل اجتماع نے کچھ جگہوں پر آگ لگائی۔

اراک شہر میں 50 فسادیوں نے رضاکار بسیج کے ایک رکن کو زخمی کر دیا۔ یزد شہر میں فسادیوں کے ایک گروپ سے پولیس نے پٹرول بم، باکسنگ کے دستانے اور چاقو  برآمد کرلئے۔ کاراج (گوہردشت): متعدد افراد نے "آمر مردہ باد" اور "یہ آخری جنگ نہیں، پہلوی واپس آرہے ہیں" کے نعرے لگاتے ہوئے ایرانی پرچم کو نذر آتش کرنے کی کوشش، جس پر وہاں موجود لوگوں نے مقابلے میں احتجاج کیا، جس کے بعد انہوں نے لوگوں پر پتھراؤ کیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ ان مظاہروں کے ساتھ ہی رضا پہلوی نے ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایتی بیانات کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ میرے پاس ایران میں ایک مستحکم منتقلی کا واضح منصوبہ ہے اور مجھے اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عوام کی حمایت حاصل ہے۔

پولیس کا تدبر اور نوجوانوں کو فسادیوں کے جال سے بچانا
فارس نیوز کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ فسادیوں میں بعض اوقات ایسے کم عمر  نوجوان بھی دیکھے گئے ہیں، جو شاید جوش میں آکر ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ کئی جگہوں پر پولیس کے ہوشیار اور تدبر سے ان نوجوانوں کو تصادم اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا شکار بننے سے بچایا گیا ہے، لیکن اب بھی انکے  جذبات کو بھڑکانے کے امکانات موجود ہیں۔ البتہ فسادیوں کی طرف سے قتل کا خطرہ اور اس سے سوئے استفادہ کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ فارس نیوز کے صحافیوں کی رپورٹوں کا خلاصہ ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ پرامن احتجاجی اجتماعات میں تیزی سے کمی آئی ہے، لیکن مخصوص سیاسی مقاصد اور غیر ملکی مال اور میڈیا کی مدد سے چھوٹے اور منظم گروہ تشدد، ہتھیاروں اور تباہی کا سہارا لے کر عوامی سلامتی اور امن کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

زیادہ تر علاقوں میں لوگوں نے شعوری طور پر ان پرتشدد کارروائیوں کا ساتھ دینے سے گریز کیا ہے۔ نماز جمعہ کے بعد کئی شہروں میں فسادیوں کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔ عام لوگوں نے اپنے آپ کو فسادیوں سے الگ کرلیا ہے۔ عوامی سطح پر ان شرپسندوں سے دوری اختیار کی جا رہی ہے، جو ایرانی معاشرے کے نظم و نسق کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کر رہے ہیں لوگوں نے کی کوشش کرنے کی اور اس کے بعد

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم