بھارتی کرکٹ بورڈ کا متعصبانہ فیصلہ، بنگلہ دیشی کھلاڑی کو آئی پی ایل سے باہر کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے کھیل اور علاقائی حالات کے امتزاج پر مبنی اپنے متعصبانہ فیصلے میں آئی پی ایل کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کو ہدایت کی ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئندہ آئی پی ایل 2026 سیزن کے لیے اسکواڈ سے باہر کر دے۔ یہ فیصلہ حالیہ سفارتی کشیدگی اور خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹی 20 کی نئی رینکنگ جاری، بابر اعظم اور محمد رضوان پیچھے رہ گئے
بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے تصدیق کی ہے کہ بورڈ نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو باضابطہ طور پر ہدایت جاری کی ہے کہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ٹیم سے ریلیز کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بورڈ نے ابتدائی طور پر صورتحال پر نظر رکھنے کی پالیسی اپنائی تھی، تاہم حالیہ پیشرفت کے بعد یہ فیصلہ ناگزیر ہو گیا۔
سائیکیا کے مطابق حالیہ دنوں میں خطے بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال بالخصوص بنگلہ دیش میں بے چینی اور بھارت میں اس پر ہونے والے ردعمل نے اس معاملے کو حساس بنا دیا تھا۔ بی سی سی آئی نے واضح کیا ہے کہ اگر کے کے آر کسی متبادل کھلاڑی کے لیے درخواست کرتی ہے تو اسے اس کی اجازت دے دی جائے گی۔
یاد رہے کہ مستفیض الرحمان کو گزشتہ دسمبر میں ہونے والی آئی پی ایل نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا تھا، جو انہیں آئی پی ایل کی تاریخ کا سب سے مہنگا بنگلہ دیشی کھلاڑی بناتا ہے۔ اسی نیلامی کے بعد سے ان کی شمولیت تنازع کا باعث بنی ہوئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی پی ایل بنگلہ دیشی کھلاڑی بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی مستفیض الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل بنگلہ دیشی کھلاڑی بھارتی کرکٹ بورڈ مستفیض الرحمان مستفیض الرحمان بنگلہ دیشی آئی پی ایل
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔