جے شنکر کے دورۂ ڈھاکہ میں غیر معمولی سیکیورٹی، سرکاری گاڑی پر بھارتی پرچم نہیں لگایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
بھارت کے وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے بنگلہ دیش کے مختصر دورۂ ڈھاکہ کے دوران سفارتی روایت سے ہٹ کر اپنی سرکاری گاڑی پر بھارتی پرچم استعمال نہیں کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا، تاہم بھارتی ہائی کمیشن نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپیکر ایاز صادق اور جے شنکر کی ملاقات، اصل میں کیا ہوا؟
غیر ملکی خبر رساں ادارے اور ڈھاکہ سے شائع ہونے والے نیوز پورٹل کے مطابق بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر 31 دسمبر کو خصوصی بھارتی فضائیہ کے طیارے کے ذریعے ڈھاکہ پہنچے، جہاں وہ صبح ساڑھے 11 بجے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے۔ ایئرپورٹ سے انہیں سخت سیکیورٹی میں بنگلہ دیش ایئر فورس بیس کے راستے قومی اسمبلی کے ساؤتھ پلازا تک لے جایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جے شنکر کی گاڑی کو ریپڈ ایکشن بٹالین اور ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس سمیت ایلیٹ سیکیورٹی دستوں نے گھیرے میں رکھا ہوا تھا۔ ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بھارتی وزیرِ خارجہ کی گاڑی پر بھارتی پرچم نہیں لگایا گیا۔
دورے کے دوران جے شنکر نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان، عبوری حکومت کے قانونی مشیر آصف نذرل اور پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق سے بھی مختصر ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر خود آکر مجھ سے ملے، ایاز صادق نے ملاقات کی تفصیل بتا دی
اس موقع پر انہوں نے سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کے انتقال پر بھارتی حکومت اور عوام کی جانب سے تعزیت کا پیغام بھی پہنچایا۔
جے شنکر اپنے تمام سرکاری امور مکمل کرنے کے بعد اسی سخت سیکیورٹی انتظامات میں سہ پہر چار بجے سے کچھ پہلے نئی دہلی واپس روانہ ہو گئے۔
دوسری جانب بھارتی ہائی کمیشن، ڈھاکہ نے سرکاری گاڑی پر پرچم نہ لگانے سے متعلق خبروں کو درست قرار دینے سے انکار کیا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یاد رہے کہ جے شنکر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب بنگلہ دیش میں سیاسی صورتحال حساس سمجھی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات اور سفارتی پروٹوکول سے ہٹ کر اقدامات نے خطے میں توجہ حاصل کی اور مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت جے شنکر خالدہ ضیا ڈھاکہ طارق رحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت خالدہ ضیا ڈھاکہ بنگلہ دیش پر بھارتی گاڑی پر
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔