جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سہولت کاری کے لیے تیار ہیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا کہ وہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کی پر زور حمایت کریں گے تاکہ جزیرہ نما کوریا میں امن بحال کرنے میں مدد ملے۔

نئے سال کے آغاز میں اپنے خطاب میں جنوبی کوریا کے صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کے جانب سے شمالی کوریا کے لیے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ملاقات میں امریکی صدر نے شمالی کوریائی سربراہ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے ملاقات کی اس خواہش کو مسترد کردیا گیا تھا۔

صدر لی جے میونگ نے بتایا کہ ان کا ملک جنگی کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتکاری کا حامی ہے۔

انہوں نے مزید کہا وہ کشیدگی اور جنگی تناؤ کے ماحول کو پائیدار ترقی سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جنوبی کوریا شمالی کوریا کوریا کے کے لیے

پڑھیں:

صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے

سٹی 42 : صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ کریں گے. 

صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف پارٹی رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں بھی کریں گے ۔ 

میاں نواز شریف گلگت بلتستان میں انتخابات اور عوامی ترقی بارےتبادلہ خیال کریں گے ۔  

متعلقہ مضامین

  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟