نئے سال 2026ء کے آغاز پر ماہرین غذائیت نے صحت مند زندگی گزارنے کے لیے چند سادہ مگر مؤثر غذائی عادات اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اچھی صحت کے لیے سخت ڈائٹس یا فیشن ایبل ٹرینڈز کی نہیں بلکہ روزمرہ میں مستقل اور متوازن غذا کھانے اور صحت کے لیے مفید مشروبات پینے کی ضرورت ہے۔

یہ عادات توانائی، نظامِ ہاضمہ، قوتِ مدافعت اور ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔

ماہرین کی جانب سے 2026ء کے لیے تجویز کی گئیں 10 صحت مند غذائی عادات درج ذیل ہیں:

دن کا آغاز نیم گرم پانی، سونف، کشمش یا لیموں پانی (بغیر چینی اور نمک) سے کریں تاکہ ہاضمہ بہتر ہو۔

آنتوں کی صحت کے لیے سادہ اور کم تیل میں پکی سبزیاں، دہی اور دیسی مسالے استعمال کریں۔

چینی اور پراسیسڈ غذاؤں کا استعمال کم کریں اور پھل یا قدرتی غذائیں کھائیں۔

کھانا توجہ اور پرسکون ہو کر کھائیں، نوالے کو آہستہ آہستہ چبائیں اور موبائل یا ٹی وی سے دور رہیں۔

زیادہ تر کھانا گھر پر تیار شدہ ہو تاکہ تیل اور نمک پر کنٹرول رہے۔

غذا کی مقدار پر قابو رکھیں اور ضرورت سے کم کھائیں۔

صحت مند کھانے میں تسلسل رکھیں، مکمل پابندی ضروری نہیں۔

مختلف رنگوں کے پھل اور سبزیاں کھائیں جو قوتِ مدافعت بڑھاتی ہیں۔

موسمی اور مقامی غذاؤں کو ترجیح دیں کیونکہ یہ زیادہ غذائیت رکھتی ہیں۔

ماہرین نے وقفے وقفے سے روزہ رکھنے (انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ) سے پرہیز کا مشورہ دیا ہے کیونکہ یہ میٹابولزم اور ہڈیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2026ء کو سادہ اور پائیدار غذائی عادات کا سال بنائیں کیونکہ جب صحت مند طرزِ زندگی عادت بن جائے تو یہ بوجھ نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی جانب آسان راستہ بن جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: غذائی عادات کے لیے

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف