تفصیلات کے مطابق وینیزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے سنے گئے۔ شہریوں نے نچلی فضا میں اُڑنے والے طیاروں کی آوازیں سننے کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ وینیزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں متعدد زور دار دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے جس کی وجہ سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وینیزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں کم از کم سات زور دار دھماکے سنے گئے۔ شہریوں نے نچلی فضا میں اُڑنے والے طیاروں کی آوازیں سننے کی بھی اطلاع دی جس سے شبہات مزید بڑھ گئے ہیں۔ دھماکوں کے بعد کئی علاقوں میں بجلی غائب ہو گئی اور آسمان میں دھواں اُٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق دھماکے اتنے زوردار تھے کہ کھڑکیاں ہِل گئیں اور لوگ خوفزدہ ہو کر سڑکوں پر نکل آئے۔ فی الحال کسی سرکاری یا عسکری ذرائع سے دھماکوں کی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے اور نہ یہ معلوم ہوا ہے کہ آیا یہ کسی حملے، حادثے یا کسی فوجی یا سیاسی تنازع کا حصہ ہیں۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور وینیزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے خاص طور پر امریکا کی جانب سے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں اور وینیزویلا پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وینیزویلا کے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔