’اسٹنگ‘ کی نقل کرنے پر پاکستانی کمپنی کو 15 کروڑ روپے جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستان کے کمپیٹیشن کمیشن (سی سی پی) نے میزان بیوریجز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر 15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے کیونکہ کمپنی نے ’پیپسی کو‘ کی مشہور انرجی ڈرنک ’اسٹنگ‘ کی پیکجنگ اور برانڈنگ کی نقل کرتے ہوئے صارفین کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے کی کوشش کی۔
بزنس ریکارڈر نے کمپیٹیشن کمیشن کے حوالے سے بتایا کہ میزان کے پروڈکٹ ’اسٹورم‘ نے ’اسٹنگ‘ کے مجموعی رنگ، بوتل کے ڈیزائن، لکھائی اور دیگر برانڈنگ عناصر کی نقول تیار کیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں صارفین کے لیے کنفیوژن پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔
کمیشن نے اپنے حکم میں کہا کہ اس طرح کا عمل ”پیرسائٹک کاپینگ“ کے زمرے میں آتا ہے اور یہ پاکستان کے مقابلہ قوانین کے تحت دھوکہ دہی پر مبنی ممنوعہ مارکیٹنگ ہے۔
اس واقعے کی قانونی تاریخ 2018 تک جاتی ہے، جب پیپسی کو نے شکایت درج کرائی کہ میزان کی اسٹورم ڈرنک اسٹنگ کی نقل کر رہی ہے تاکہ پیپسی کے برانڈ کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
کمپیٹیشن کمیشن کے مطابق میزان نے اس کیس میں براہ راست جواب دینے کے بجائے بار بار کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا اور طویل قانونی کارروائی کے ذریعے انکوائری میں تاخیر کی۔
لاہور ہائی کورٹ نے 2018 اور 2021 میں عارضی احکامات جاری کیے جس سے تحقیقات کئی سال تک ملتوی رہیں۔
تاہم جون 2024 میں لاہور ہائی کورٹ نے میزان کی پٹیشن مسترد کرتے ہوئے کمپیٹیشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو برقرار رکھا اور واضح کیا کہ کمپیٹیشن ایکٹ کے تحت کارروائی ٹریڈ مارک کیس سے علیحدہ ہے۔
کمپیٹیشن کمیشن کی تفصیلی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اسٹورم نے اسٹنگ کی نقل کے لیے مکمل سرخ رنگ کا استعمال، بولڈ اور سلیٹڈ سفید لکھائی، تقریباً وہی بوتل کی شکل اور برانڈنگ عناصر اپنائے، جو عام صارف کو گمراہ کرنے کے لیے کافی تھے۔
کمیشن نے واضح کیا کہ دھوکہ دہی کا جائزہ مجموعی تجارتی اثر کی بنیاد پر لیا جاتا ہے نہ کہ چھوٹے فرق کے موازنے سے۔
اگرچہ میزان کے پاس ”اسٹورم“ کا رجسٹرڈ ٹریڈ مارک موجود تھا، لیکن کمپیٹیشن کمیشن نے کہا کہ ٹریڈ مارک رجسٹریشن صارفین کو گمراہ کرنے اور پاسنگ آف کے ثبوت کے معاملے میں قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کمپیٹیشن کمیشن کمیشن کے کی نقل
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔