سنجے دت نے اپنے ہاتھ پر اقرا کا نام ٹیٹو کیوں بنوایا؛ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
نئے سال کی آمد کا اداکار سنجے دت نے ہاتھوں پر دو نئے ٹیٹوز بنوا کر استقبال کیا اور اس کی ایک خاص وجہ بھی ہے۔
بالی ووڈ اسٹار سنجے دت اپنی اداکاری کے ساتھ ساتھ اپنے اسٹائل کے لیے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ پہلے اداکار ہیں نے جنھوں نے جاندار باڈی بنائی ورنہ اس سے قبل ہیرو کا جم جانا عجیب سمجھا جاتا تھا۔
اس طرح سنجے دت کے اس باڈی بلڈنگ اسٹائل نے بالی ووڈ کے نرم و نازک ہیروز کو مضبوط جسم کا مالک بننے کی جانب راغب کیا اور آج یہ ہر ایک ہیرو کے لیے لازمی ہوگیا ہے ورنہ اس سے قبل تصور بھی محال تھا۔
یہی نہیں، جب سنجے دت نے لمبے بال رکھے تو فلم ڈائریکٹرز کو یہ روپ پسند نہیں آیا کہ اس سے ہیرو ازم کو ٹھیس پہنچتی ہے اور ولن کے تصور کو تقویت ملتی ہے لیکن عوام کو سنجے کا یہ روپ اتنا بھایا کہ نوجوانوں کا پسندیدہ ہیر اسٹائل بن گیا تھا۔
اسی طرح رواں برس کا آغاز بھی سنجے دت نے دھماکے دار کرکے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے انھوں نے ہاتھوں پر دو ٹیٹوز بنوائے ہیں جو ناموں پر مشتمل ہیں۔ ایک پر اقرا لکھا ہے اور دوسرے پر شہران کندا ہوا ہے۔
یہ دونوں نام ان کے جڑواں بچوں کے ہیں جو ان کی تیسری اہلیہ مانیتا (دلنواز شیخ) سے ہیں۔ سنجے کی برین کینسر انتقال کرجانے والی پہلی اہلیہ سے بھی ایک بیٹی ہے جو اس وقت ننھیال کے ساتھ امریکا میں ہے۔
سنجے دت اپنی مسلمان والدہ نرگس سے بہت پیار کرتے تھے اور ان کے انتقال کرجانے کے بعد بھی اپنی ماں کے دیئے ہوئے تعویز گلے میں پہنا کرتا تھے اور اسی لیے انھوں نے اپنی بیٹی کا نام اقرا رکھا ہے۔
سنجے دت کی تیسری اور موجودہ اہلیہ مانیتا بھی ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا پیدائشی نام دلنواز شیخ تھا تاہم وہ فلمی نام مانیتا سے مشہور ہوئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔