شہید قاسم سلیمانی کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کے 13 جملے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ جو شخص دشمن کے سامنے جاتا ہے، نہیں ڈرتا، میدانوں میں نہ تھکن جانتا ہے، نہ سردی، نہ گرمی… اگر اس نے اپنے اندرونی جہادِ اکبر میں فتح حاصل نہ کی ہوتی تو وہ یوں دشمن کے مقابل نہ جا سکتا۔ خصوصی رپورٹ:
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کماندڑ سردار سپہبد شہید حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی منعقد ہو رہی ہے۔ رہبرِ انقلاب (امام خامنہ ای مدظلہ العالی) کے شہید قدس کے بارے میں کہے گئے انتہائی بامعنی اور کلیدی جملات کا اردو ترجمہ اسلام ٹائمز کے قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ تسنیم نیوز کے گروہ امام و رهبری کی جانب سے عالمِ اسلام کے اس بہادر اور افتخار انگیز کمانڈر، شہید سپہبد قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی کے موقع پر رہبرِ انقلاب کے ان کے بارے میں 13 اہم جملات کو جمع کیا گیا ہے۔
1) شہید سلیمانی کے عالمِ رحمتِ الٰہی میں ناقابلِ تصور مقامات:
اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ عزت اُس کے ہاتھ میں ہے۔ یہ عزت ہی ہے کہ لوگ دور دور سے، حتیٰ کہ دوسرے ممالک سے بھی، شہید سلیمانی کی برسی پر ان کے مزار کی زیارت کے لیے آتے ہیں، فاتحہ پڑھتے ہیں۔ یہ عزت اللہ دیتا ہے جب انسان اخلاص کے ساتھ اس کے لیے کام کرے۔ (12 دی 1403)
2) خطرے کا خیال نہ کیجیے:
80 کی دہائی کے اوائل میں جب امریکہ نے ہمارے خطے (افغانستان، عراق) میں فوجی شرارتیں شروع کیں تو شروع ہی سے شہید سلیمانی میدان میں اتر آئے، انہوں نے نہ خطرے کی پروا کی اور نہ دشمن کی ہیبت سے مرعوب ہوئے۔ (12 دی 1403)
3) عراق کے نوجوانوں کے نجات دہندہ:
جب خارجی فوجیں عراق کے مختلف شہروں (نجف، کربلا، کاظمین، بغداد وغیرہ) میں داخل ہوئیں تو نجف میں چند نوجوان امیرالمؤمنین کے صحن میں بے سروسامان پناہ لیے ہوئے تھے، نہ اچھے ہتھیار تھے، نہ مناسب کھانا۔ سلیمانی نے اپنی ذمہ داری محسوس کی، ان سے رابطہ کیا اور ان کی مدد کر کے انہیں نجات دلائی۔ (12 دی 1403)
4) داعش کے مقابل میدان میں ڈٹ جانا:
امریکیوں نے جب دیکھا کہ عراق میں براہ راست مداخلت انہیں فائدہ نہیں دیتی تو انہوں نے داعش کو تخلیق کیا، جس کا خود امریکیوں نے بھی اعتراف کیا ہے۔ داعش کے مقابل جس نے میدان میں کھڑے ہو کر مقابلہ کیا، وہ پھر شہید سلیمانی ہی تھے۔ (12 دی 1403)
5) جبهۂ مقاومت کا احیاء؛ شہید سلیمانی کی مستقل حکمتِ عملی:
شہید سلیمانی کی دائمی حکمتِ عملی یہ تھی کہ جبهۂ مقاومت کو زندہ کریں، یعنی ہر ملک کے اندر موجود تیار اور باصلاحیت نوجوانوں اور قوتوں سے استفادہ کریں۔ جہاں بھی گئے (عراق، شام، لبنان) وہیں کی مقامی اور قومی طاقتوں کو منظم اور متحرک کرتے تھے۔ (12 دی 1403)
6) مقدس مقامات کی حفاظت اُن کے لیے ایک اصول تھا:
ان کے نزدیک مقدس مقامات کی حفاظت بنیادی اصول تھی۔ عتبات عالیات، زینبیہ، اصحابِ امیرالمؤمنین کے مزارات، مسجد الاقصیٰ… حتیٰ کہ وہ ایران کو بھی “حرم” کہتے تھے اور ایران کو بھی حرم سمجھ کر اس کا دفاع کرتے تھے۔ (12 دی 1403)
7) ملکی مسائل کو عالمی زاویے سے دیکھنے کا نظریہ:
شہید سلیمانی کا ملکی مسائل پر نظریہ محدود نہیں تھا، وہ مسائل کو عالمی اور بین الاقوامی زاویے سے دیکھتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ دنیا یا خطے کی ہر اہم تبدیلی کے اثرات اندرونِ ملک بھی پڑتے ہیں، وہ خطرے کو سرحدوں کے باہر محسوس کر کے علاج کی فکر کرتے تھے۔ (12 دی 1403)
8) مکتبِ سلیمانی دراصل اسلام کا مکتب ہے:
“مکتبِ سلیمانی” در حقیقت اسلام اور قرآن کا مکتب ہے، اور وہ اس مکتب سے وابستہ تھے اور اسی پر عمل کرتے تھے۔ (12 دی 1403)
9) اگر حاج قاسم نہ ہوتے تو عراق و شام کے مقدس مقامات بھی باقی نہ رہتے:
اگر یہ جانیں قربان نہ ہوتیں، اگر حاج قاسم ان پہاڑوں اور بیابانوں میں شجاعت سے حرکت نہ کرتے، تو آج نہ زینبیہ ہوتی، نہ کربلا، نہ نجف۔ مثال سامراء ہے جہاں غفلت ہوئی تو تکفیریوں نے (امریکی مدد سے) عسکریینؑ کے گنبد کو تباہ کیا اور ضریح توڑی۔ اگر دفاع نہ ہوتا تو سب مقدس مقامات کا یہی حال ہوتا۔ (12 دی 1403)
10) ایرانیوں کے لیے باعثِ فخر:
ایرانی قوم کو فخر کرنا چاہیے کہ ان کے درمیان سے ایک دور افتادہ گاؤں کا آدمی اٹھتا ہے، محنت کرتا ہے، خود کو بناتا ہے اور امتِ اسلامی کا درخشاں اور بہادر چہرہ بن جاتا ہے۔ (26 آذر 1399)
11) ملتِ ایران کے ہیرو:
شہید سلیمانی ملتِ ایران کے ہیرو تھے کیونکہ ایرانی قوم نے اپنی ثقافتی، معنوی، انقلابی اور اقداری دولت کو ان میں مجسم دیکھا۔ (26 آذر 1399)
12) “جہادِ اکبر کے فاتح”:
جو شخص دشمن کے سامنے جاتا ہے، نہیں ڈرتا، میدانوں میں نہ تھکن جانتا ہے، نہ سردی، نہ گرمی… اگر اس نے اپنے اندرونی جہادِ اکبر میں فتح حاصل نہ کی ہوتی تو وہ یوں دشمن کے مقابل نہ جا سکتا۔ (13 دی 1398)
13) اللہ کے راستے میں بے خوف:
حاج قاسم کئی بار شہادت کے قریب پہنچے تھے، یہ پہلی بار نہ تھا؛ مگر اللہ کی راہ، ذمہ داری، اور جہاد فی سبیل اللہ میں وہ کسی چیز سے نہیں ڈرتے تھے: نہ دشمن سے، نہ لوگوں کی باتوں سے، نہ مشقت اٹھانے سے۔ (13 دی 1398)
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید سلیمانی مقدس مقامات سلیمانی کی کے مقابل کرتے تھے دشمن کے کے لیے
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔