پاکستان اور امریکا جب بھی کسی مہم پر اکٹھے چلے تو اس کا مقصد نتیجہ خیز نکلا: رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت سے جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کو جو مقام ملا پہلے کبھی نہیں ملا، جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا،پاکستان اور امریکا جب بھی کسی مہم پر اکٹھے چلے تو اس کا مقصد نتیجہ خیز نکلا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بین الاقوامی سلامتی کیلئے پاکستان نے ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا، پاک امریکا شراکت داری عالمی امن و استحکام کیلئے ہے، پاکستان دنیا کے حساس خطے میں ہے، پاکستان کی امریکا کے ساتھ طویل شراکت داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پاک امریکا تعلقات میں نمایاں بہتری آئی جس کا کریڈٹ موجودہ قیادت کو جاتا ہے، پاکستان اور امریکا دنیا میں آبادی کے لحاظ سے 5 بڑے ملکوں میں شامل ہیں، دنیا کی دو بڑی آبادیوں میں قریبی اور اچھے تعلقات وقت کی ضرورت ہیں۔ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت سے جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کو جو مقام ملا پہلے کبھی نہیں ملا، جنگ میں فتح کے بعد پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا۔ سفیرپاکستان نے کہا کہ سفارتکاری میں خود ایک مشیر کے طور پر کام کر رہا ہوں، آج کے دور میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے، امریکا میں پاکستان کی سفارتکاری کامیابی سے جاری ہے، سفارتکاری کے عمل میں آپ سب بھی شراکت دار ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جنگ میں فتح کے بعد پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔