ادارے تباہ ہو چکے لیکن ظلم کی رات ختم اور عدل کا سورج طلوع ہوگا، اعظم سواتی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی نے کہا ہے کہ اب پارٹی کی نئی لیڈر شپ ہے، میں نے ان پر بھروسہ کیا ہوا ہے، دیکھتا ہوں یہ کیا کرتے ہیں، 6 /7 جنوری کو سینٹ میں تقریر کرکے ذاتی لائحہ عمل پیش کروں گا۔
سینیٹر اعظم سواتی نے اے ٹی سی میں زیر سماعت نو مئی کے مقدمات میں پیشی کے بعد باہر موجود میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ظلم کی رات ختم اور عدل کا سورج طلوع ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہر لحاظ سے آگے جانا چاہیے، ادارے تباہ ہو چکے لیکن کوشش کرنی چاہیئے کہ یہ ملک بن اور بچ جائے، اسی لیئے خان صاحب نے مجھے کہا تھا کہ جا کر بات چیت کروں، اللہ کرے کہ ہمارے مزاج بدلیں۔
حالات کو دیکھیں اس کے مطابق ملک اور اداروں کو بچانے کی کوشش کریں۔ ایک صحافی کے سوال پر کہ خان صاحب نے کیا ٹاسک دیا تھا کہ مذاکرات میں یہ بات کریں؟ کے جواب میں اعظم سواتی نے کہا کہ میری رسائی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں آخری مرتبہ 2 اپریل 2025 کو آخری مرتبہ ان سے ملا تھا، میں نے خان صاحب کو کہا تھا کہ مجھے اپنی پارٹی والے نہیں چھوڑیں گے، اب جو لوگ ملتے ہیں پیغام لے کر آتے ہیں کہ وہ اس پاکستان کو کدھر لے کر جانا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اعظم سواتی تھا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔