سونے کی قیمت میں آج بڑی کمی ریکارڈ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں آج بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں ایک روزہ وقفے کے بعد ہفتے کو سونا اور چاندی کی قیمتوں میں دوبارہ کمی واقع ہوئی۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں ہفتے کو فی اونس سونے کی قیمت 47ڈالر کی کمی سے 4ہزار 332ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی 24قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 4ہزار 700روپے کی کمی سے 4لاکھ 55ہزار 562روپے کی سطح پر آگئی۔
اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 4ہزار 030روپے کی کمی سے 3لاکھ 90ہزار 570روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 106روپے کی کمی سے 7ہزار 756روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 91روپے کی کمی سے 6ہزار 649روپے کی سطح پر آگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت کی کمی سے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔