خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
ریاستی اداروں کی نجکاری حکومتی معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے، شہباز شریف
وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کابینہ ارکان کو نئے سال کی مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، انہوں نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی نجکاری انتہائی کامیابی سے طے پانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت میں آتے ہی عزم کیا تھا کہ خسارے کا شکار ریاستی اداروں کی نجکاری کی جائے گی، پی آئی اے کی نجکاری اس حوالے سے انتہائی اہم سنگ میل ہے، ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کے معاشی اصلاحات کے ویژن کا حصہ ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کے جی ڈی پی میں خاطرخواہ اضافہ خوش آئند ہے، ہم ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر معاشی استحکام تک لائے ہیں۔وزیراعظم نے حالیہ دور کے دوران صدر یو اے ای سے ملاقات کو دو طرفہ تعلقات اور باہمی مشاورت کے تناظر میں انتہائی مفید قرار دیا، اجلاس میں وزیراعظم نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد سے بات چیت میں دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور اسٹریٹیجک تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ نے سی سی ایل سی کے فیصلوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کے حوالے سے کارروائی کی توثیق کردی۔ وفاقی کابینہ نے ای سی سی کے فیصلوں اور آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس لیوی کے حوالے سے تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کی بھی توثیق کردی۔ کابینہ نے تھرڈ پارٹی کی جانب سے آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فروخت، صدارتی حکم نامے کے اجرا کے لیے کارروائی کی منظوری دے دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اداروں کی نجکاری کا اظہار کیا نے کہا
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔