دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی ایک بار پھر ایک ایسے ہمسایہ ملک کے طور پر اپنے تشویشناک ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے جو دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے اور علاقائی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔

اگرچہ دفتر خارجہ کے بیان میں بھارتی وزیر کے ریمارکس کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا، تاہم یہ ردعمل اس کے بعد سامنے آیا جب بھارتی میڈیا نے جمعے کے روز جے شنکر کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کی بات کرتے ہوئے خراب ہمسایوں کا ذکر کیا۔

دی ہندو کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے خراب ہمسائے ہیں اور جب خراب ہمسائے ہوں، خاص طور پر مغرب کی طرف دیکھیں، اگر کوئی ملک جان بوجھ کر، مسلسل اور بغیر کسی ندامت کے دہشت گردی جاری رکھے تو ہمیں اپنے عوام کو دہشت گردی سے بچانے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے، جو 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تنازع بن چکا ہے اور جس کا الزام بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر عائد کیا، کہا کہ کئی سال پہلے ہم نے پانی کی تقسیم کا ایک معاہدہ اس نیت سے کیا کہ یہ خیرسگالی کا اظہار ہوگا اور اچھے ہمسائیگی کے جذبے کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا، لیکن اگر دہائیوں تک دہشت گردی ہوتی رہے تو نہ اچھے ہمسائیگی باقی رہتی ہے اور نہ ہی اس کے فوائد مل سکتے ہیں۔

ہفتے کے روز جاری بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت ایک بار پھر بطور ہمسایہ اپنے اس تشویشناک کردار سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے جو دہشت گردی کے فروغ اور علاقائی عدم استحکام کا سبب بنتا ہے۔

????PR No.

0️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Press Remarks by the Spokesperson https://t.co/Iv3sVuoDk2
????⬇️ pic.twitter.com/MG2tg45bnJ

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 3, 2026


دفتر خارجہ کے مطابق خطے میں، بالخصوص پاکستان کے اندر دہشت گرد سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھارت کے دستاویزی شواہد پر مبنی کردار سے دنیا واقف ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کمانڈر کلبھوشن یادھو کا کیس پاکستان کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے۔

کلبھوشن یادھو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، بعد ازاں اس نے بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ سے وابستگی اور پاکستان میں جاسوسی و دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ وہ اس وقت بھی پاکستان میں قید ہے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ اس سے بھی زیادہ تشویشناک باتیں سرحد پار قتل، پراکسی عناصر کے ذریعے تخریبی کارروائیاں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت کے بار بار سامنے آنے والے واقعات ہیں۔

بیان کے مطابق یہ طرزعمل ہندوتوا کی انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنی غیر قانونی اور پرتشدد فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ پاکستان کشمیری عوام کی ان کی جائز جدوجہد میں مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا تاکہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت حاصل کر سکیں۔

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی کے ساتھ اور بھاری قیمت ادا کرکے طے پایا تھا۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے علاقائی استحکام متاثر ہوگا اور ایک ایسے ملک کے طور پر اس کی ساکھ پر سوالات اٹھیں گے جو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کا دعویٰ کرتا ہے۔

دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ بدھ کے روز ڈھاکا میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی تدفین کے موقع پر قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مصافحہ کیا۔ مئی 2025 میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد یہ پاکستانی اور بھارتی اعلیٰ حکام کے درمیان پہلا اعلیٰ سطح رابطہ تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر کے مطابق گیا کہ کے بعد کہا کہ

پڑھیں:

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے

سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔

دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار