سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزاروں روپے کی بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں آج نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مزید دریافت کریں لاہور رپورٹس کے مطابق ایک روز کے وقفے کے بعد ہفتے کے روز بین الاقوامی بلین مارکیٹ اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں دوبارہ کمی دیکھنے میں آئی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 47 ڈالر کم ہو کر 4 ہزار 332 ڈالر کی سطح پر آ گئی، جس کے اثرات مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت 4 ہزار 700 روپے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 55 ہزار 562 روپے ہو گئی، جبکہ فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 4 ہزار 030 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 90 ہزار 570 روپے کی سطح پر آ گئی۔ اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ فی تولہ چاندی 106 روپے سستی ہو کر 7 ہزار 756 روپے جبکہ فی دس گرام چاندی کی قیمت 91 روپے کی کمی کے بعد 6 ہزار 649 روپے ہو گئی ہے۔ صرافہ ذرائع کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت مارکیٹ میں روپے کی
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔