امریکا کا وینزویلا پر حملہ، صدر اور اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
امریکا کا وینزویلا پر حملہ، صدر اور اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا: ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن: (آئی پی ایس) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف کامیاب آپریشن کر لیا، وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا۔
سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ریاستہائے متحدہ امریکا نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک کامیاب کارروائی انجام دی ہے، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے کی گئی، کچھ دیر بعد تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا، آپ کی توجہ کا شکریہ۔
وینزویلا پر امریکی حملہ
اس سے قبل اطلاعات آئیں کہ امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر حملہ کردیا، دارالحکومت کراکس میں زور دار دھماکے، طیاروں کی آوازیں سنی گئیں اور مختلف علاقوں میں طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کا حکم دیا ہے اور وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں کم ازکم 7دھماکے ہوئے ہیں۔
امریکی عہدیدار نے خبر ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ امریکا وینزویلا کے خلاف فوجی حملےکررہا ہے۔
وینزویلا حکومت نے تصدیق کی ہے کہ حملےکاراکس، میرانڈا، آراگوا اورلاگویرا ریاستوں میں ہوئے ہیں، ان امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا ہے۔
وینزویلا حکومت نے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ امریکا ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا، ہم امریکا کی فوجی جارحیت کو مستردکرتے ہیں۔
وینزویلا کے صدرنے حملوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔
دوسری طرف روسی میڈیا یہ دعویٰ کررہا ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کےدفاعی ہیڈکوارٹرزکو نشانہ بنایاگیا ہے اور وینزویلا کے صدر صدارتی محل چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے کئی جزائر میں امریکی میرینز کے زمینی آپریشن شروع کرنے کی غیرمصدقہ اطلاعات آئی ہیں۔
اسی حوالے سے کولمبیا کے صدر نے کہا ہے کہ کراکس پرمیزائل داغے جارہے ہیں اور کراکس پر حملوں پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کراکس کے جنوبی علاقے میں بجلی معطل ہو گئی، شہریوں کو نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت کر دی گئی، مختلف مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
کراکس میں ایک آبی ذخیرے کے قریب واقع ایک عمارت کے پاس آگ کے شعلے اور گھنا دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے، دھماکہ کراکس کے مرکزی فوجی اڈے فورچونا کے قریب یا اس کے آس پاس ہوا ہے، فورچونا وہاں ایک اہم فوجی اڈہ ہے، علاقے میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکے سنے گئے، جن کے بعد بجلی بھی بند ہو گئی۔
ادھر کولمبیا میں امریکی سفارتخانے نے وینزویلا میں امریکی شہریوں کے لیے وارننگ جاری کر دی ہے، ہدایت کی گئی کہ وینزویلا اور اس کے گردونواح میں دھماکوں کی اطلاعات کے پیش نظر امریکی شہری وینزویلا کا سفر نہ کریں۔
امریکی سفارتخانے نے کہا ہے کہ امریکی شہری جو وینزویلا میں موجود ہیں وہ فوری محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔
کولمبیا کی جانب سے امریکی جارحیت کی تفصیل جاری
وینزویلا کی پڑوسی ملک کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے امریکی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور بتایا کہ امریکی حملے میں لا کارلوٹا ایئر بیس کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی، کوارٹیل دے لا مونتانا (کاتیا) کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی، فیڈرل لیجسلیٹو پیلس (کراکس) پر بمباری کی گئی۔
انہوں نے مزید لکھا کہ فویئرتے تیونا، جو وینزویلا کا مرکزی فوجی کمپلیکس ہے، پر بمباری کی گئی، ایل ہاتییو میں واقع ایک ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا، ایف۔16 بیس نمبر 3 (بارکیسیمیٹو) پر بمباری کی گئی، کراکس کے قریب چارالاوی میں واقع ایک نجی ہوائی اڈے کو بمباری کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔
کولمبین صدر نے لکھا کہ میر افلورس، جو کراکس میں صدارتی محل ہے، میں دفاعی منصوبہ فعال کر دیا گیا، کراکس کے بڑے حصے، جن میں سانتا مونیکا، فویئرتے تیونا، لاس ٹیکیس، 23 دے اینیرو اور دارالحکومت کے جنوبی علاقے شامل ہیں، بجلی سے محروم ہو گئے، وسطی کراکس میں حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، ہیگروتے میں واقع ایک فوجی ہیلی کاپٹر بیس کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی۔
کیوبا کی جانب سے امریکی مجرمانہ حملے کی مذمت
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر ایک سخت بیان جاری کیا کہ واشنگٹن نے وینزویلا کے خلاف مجرمانہ حملہ کیا ہے، انہوں نے امریکی حملے پر فوری بین الاقوامی ردِعمل کا مطالبہ کیا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں دیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا کا کا خطہ بے دردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، امریکی اقدام ریاستی دہشت گردی ہے جو نہ صرف وینزویلا کے عوام بلکہ وسیع پیمانے پر ہمارے براعظم امریکا کے خلاف ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر انقلابی نعرہ لگایا: “وطن یا موت، ہم کامیاب ہوں گے۔”
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟ سونے کی قیمت میں بڑی کمی ریکارڈ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟ وینزویلا کے دارالحکومت میں زور دار دھماکے، امریکا نے میزائل حملہ کر دیا: حکومت پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان سرمایہ کاری کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق صدر آصف زرداری کا پاک فضائیہ کے مقامی تیار کردہ تیمور ویپن سسٹم کے کامیاب تجربے پر خراجِ تحسین پاک فضائیہ کا مقامی طور پر تیار جدید ترین تیمور کروز میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے 15 ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا؛ سرمایہ کاروں کی تعداد بلند ترین سطح پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ملک سے باہر منتقل کر دیا وینزویلا پر اہلیہ کو پر حملہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔