راولپنڈی، غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون کو قطر سے پاکستان لاکر قتل کرنے میں ملوث ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
راولپنڈی کے تھانہ واہ کینٹ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 3 روز قبل قطر پلٹ شادی شدہ خاتون کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔
زیر حراست شخص نے ساتھی کے ہمراہ فائرنگ کر کے خاتون کو قتل کیا تھا، سی پی او سید خالد ہمدانی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا، واقعہ کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، سئنیر افسران کے زیر نگرانی مقدمہ کی تفتیش عمل میں لائی جا رہی یے۔
ترجمان پولیس کے مطابق ایس پی پوٹھوہار نے کہا کہ واقعہ میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے ریڈ کیے جا رہے ہیں، زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا،
مزید پڑھیںراولپنڈی؛ غیرت کے نام پر قتل لڑکی پر شدید تشدد کا انکشاف، گردن کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں
راولپنڈی:غیرت کے نام پر قتل 17 سالہ لڑکی کی قبرکشائی کا حکم، واردات کی لرزہ خیز رپورٹ عدالت میں پیش
ترجمان راولپنڈی پولیس نے بتایا کہ راولپنڈی سی سی ڈی پیرودھائی کے علاقوں میں ہوٹلوں پر چھاپے، خفیہ اطلاع پر چھاپے تین ہوٹلوں پر مارے گئے۔
ذرائع نے کہا کہ متعدد افراد کو تحویل میں لے لیا گیا،ملزمان کو قحبہ خانے چلانے اور سہولت کاری کے الزامات پر تحویل میں لیا گیا، تحویل میںئے گئے افراد میں نجی ہوٹل کا منیجر بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق تحویل میں لئے گئے ملزمان میں ذیشان،سعید،عارف اور عالیہ شامل ہیں، تمام ملزمان کو تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تحویل میں
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔