ندا یاسر کے نئے سال کے انداز نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
پاکستانی اداکارہ اور ٹی وی میزبان ندا یاسر نئے سال پر اپنے انداز کی وجہ سے ایک بار پھر تقنید کی زد میں آگئیں۔
ٹی وی میزبان ندا یاسر اکثر اپنے بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں رہتی ہیں لیکن اس بار وہ اپنے کسی بیان کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے انداز کی وجہ سے خبروں میں آگئیں۔
گزشتہ 17 سالوں سے نجی ٹی وی کے مارننگ شو سے وابستہ ندا یاسر کے انسٹاگرام پر فالورز کی تعداد 26 لاکھ سے زائد ہے۔
ندا یاسر ایک کامیاب فلم اور ٹی وی پروڈیوسر بھی رہ چکی ہیں، جن کے نمایاں پراجیکٹس میں ’رانگ نمبر‘، ’مہرالنسا وی لو یو‘ اور ’چکر‘ شامل ہیں۔
View this post on Instagramیاد رہے کہ ندا یاسر معروف پاکستانی اداکار اور ہدایتکار یاسر نواز کی اہلیہ ہیں، اور ان کے تین بچے ہیں، وہ اکثر اپنے حد سے زیادہ منفرد اور نمایاں لباس کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔
حال ہی میں انہوں نے نئے سال کی کچھ تصاویر شیئر کیں، تاہم ندا یاسر کے پرانے فیشن اور نامناسب لک پر صارفین شدید تنقید کررہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ لَنڈے کا مال پروموٹ کر رہی ہیں‘۔
ایک اور صارف نے کہا کہ پیسہ کلاس نہیں خرید سکتا۔
ایک اور کمنٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ لوگ پوری زندگی گزار دیتے ہیں مگر نفاست سے لباس پہننے کا ہنر نہیں سیکھ پاتے، اور ندا بھی انہی میں سے ایک ہیں۔
ایک مداح نے مزید لکھا کہ ندا بہت زیادہ پینڈو لگ رہی ہیں، لگتا ہے یہ پینڈو لباس خود ندا نے ڈیزائن کیا ہے۔
کچھ صارفین نے اداکارہ کو کارٹون نیٹ ورک یا کارٹون فیملی بھی قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔